ملاقاتِ خداوندی
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
ملاقاتِ خداوندی حج کے بہت سے پہلو ہیں۔ مگر اس کا خاص پہلو یہ ہے کہ حج حق تعالی سے ملاقات ہے۔ آدمی جب سفر کر کے مقاماتِ حج تک پہنچتا ہے تو اس پر خاص طرح کی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ”اپنی دنیا“ سے نکل کر ”خدا کی دنیا“ میں پہنچ گیا ہے۔ وہ اپنے رب کو چھوڑ رہا ہے وہ اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ وہ اس کی طرف دوڑ رہا ہے۔ وہ اس کی خاطر ادھر سے ادھر جا رہا ہے۔ وہ اس کے حضور قربانی پیش کر رہا ہے۔ وہ اس کے دشمن کو کنکریاں مار رہا ہے۔ وہ اس سے مانگ رہا ہے جو کچھ وہ اس سے مانگنا چاہتا ہے۔ وہ اس سے پا رہا ہے جو کچھ وہ اس سے پانا چاہتا ہے۔ عرفات کا میدان اس سلسلہ میں بڑا عجیب منظر پیش کرتا ہے۔ خدا کے بندے قافلہ در قافلہ چاروں طرف سے چلے آ رہے ہیں۔ سب کے جسم پر ایک ہی سادہ لباس ہے۔ ہر ایک اپنی امتیازی صفت کو کھو چکا ہے۔ سب کی زبان پر ایک ہی کلام جاری ہے : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ( حاضر ہوں خدا یا میں حاضر ہوں، حاضر ہوں خدا یا میں حاضر ہوں )۔ یہ منظر دیکھ کر قرآن کی وہ آیت یاد آنے لگتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو اچانک تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے : وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَإِذَا هُمْ مِنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يُنْسِلُونَ (36:51)۔ حقیقت یہ ہے کہ عرفات کا اجتماع حشر کے اجتماع کی پیشگی خبر ہے۔ یہ آج کی دنیا میں آئندہ آنے والی دنیا کی تصویر دکھانا ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ الْحَجُّ عَرَفَةُ ( سنن الترمذی، حدیث نمبر 889 )۔ یعنی، عرفات کے میدان میں قیام ہی حج ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا اہم ترین مقصد کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی میدان حشر میں خدا کے سامنے اپنی حاضری کو یاد کرے ۔ جو کچھ کل عملاً بیتنے والا ہے اس کو آج ہی ذہنی طور پر اپنے اوپر طاری کرلے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader