خالق کی تلاش
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
اول کی توجیہ کے لیے تو اتفاق کا نام لیا جاسکتا ہے مگر اس کے بعد کی مسلسل حرکت کو کسی حال میں بھی اتفاق نہیں کہا جا سکتا۔ اس کی توجیہ کے لیے دوسرا خدا تلاش کرنا پڑے گا۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے اصول تعلیل (Principle of Causation) پیش کیا گیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حرکت اول کے بعد کائنات میں علت اور معلول کا ایک ایسا سلسلہ قائم ہو گیا ہے کہ ایک کے بعد ایک تمام واقعات پیش آتے چلے جا رہے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے بچے بہت سی اینٹیں کھڑی کر کے کنارے کی ایک اینٹ گرا دیتے ہیں تو اس کے بعد کی تمام اینٹیں خود بخود گرتی چلی جاتی ہیں۔ جو واقعہ ظہور میں آتا ہے اس کا سبب کائنات کے باہر کہیں موجود نہیں ہے بلکہ ناقابل تسخیر قوانین کے تحت حالات ماقبل کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے۔ اور یہ سابقہ حالات بھی اپنے سے پہلے واقعات کا لازمی نتیجہ تھے ۔ اس طرح کائنات میں علت اور معلول کا ایک لامناہی سلسلہ قائم ہو گیا ہے۔ حتیٰ کہ جس صورت میں تاریخ عالم کا آغاز ہوا، اس نے آئندہ سلسلہ واقعات کا قطعی فیصلہ کر دیا ہے ۔ جب ابتدائی صورت ایک دفعہ معین ہو گئی تو قدرت صرف ایک ہی طریق سے منزل مقصود تک پہنچ سکتی تھی۔ گویا کائنات جس روز پیدا ہوئی اس کی آئندہ تاریخ بھی اسی دن متعین ہو چکی ہے۔ اس اصول کو قدرت کا اساسی قانون مقرر کرنا سترہویں صدی کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ چنانچہ یہ تحریک شروع ہوئی کہ تمام کائنات کو ایک مشین ثابت کیا جائے۔ انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یہ تحریک اپنے پورے عروج پر آگئی۔ یہ زمانہ سائنس داں انجینیروں کا تھا جن کی دلی خواہش تھی کہ قدرت کے مشینی ماڈل بنائے جائیں۔ اسی زمانہ میں ہیلم ہولٹز (Helm Holtz) نے کہا تھا کہ تمام قدرتی سائنسوں کا آخری مقصد اپنے آپ کو میکانکس میں منتقل کر لینا ہے۔ اگرچہ اس اصول کے مطابق کائنات کے تمام مظاہر کی تشریح کرنے میں ابھی سائنسدانوں کو کامیابی نہیں ہوئی تھی مگر ان کا یقین تھا کہ کائنات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader