خالق کی تلاش
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
کی تشریح میکانکی پیرائے میں ہو سکتی ہے وہ سمجھتے تھے کہ صرف تھوڑی سی کوشش کی ضرورت ہے اور بالآخر تمام عالم ایک مکمل چلتی ہوئی مشین ثابت ہو جائے گا۔ ان باتوں کا انسانی زندگی سے تعلق صاف ظاہر تھا۔ اصول تعلیل کی ہر تو سیع اور قدرت کی ہر کامیابی میکانکی تشریح نے اختیار انسانی پر یقین کرنا محال بنا دیا، کیوں کہ اگر یہ اصول تمام قدرت پر حاوی ہے تو زندگی اس سے کیوں مستثنیٰ ہو سکتی ہے۔ اس طرزِ فکر کے نتیجہ میں سترھویں اور اٹھارھویں صدی کے میکانکی فلسفے وجود میں آئے ۔ جب یہ دریافت ہوا کہ (Living Cell) جاندار خلیہ بھی بے جان مادہ کی طرح محض کیمیاوی جوہروں سے بنا ہے تو فوراً سوال پیدا ہوا کہ وہ خاص اجزاء جن سے ہمارے جسم و دماغ بنے ہوئے ہیں کیوں کر اصول تعلیل کے دائرہ سے باہر ہو سکتے ہیں چنانچہ یہ گمان کیا گیا بلکہ بڑے جوش کے ساتھ دعویٰ کر دیا گیا کہ زندگی بھی ایک خالص مشین ہے یہاں تک کہا گیا کہ نیوٹن، باخ (Michel Angelo) اور مائیکل انجلو کے دماغ کسی پرنٹنگ مشین سے صرف پیچیدگی میں مختلف تھے اور ان کا کام صرف یہ تھا کہ بیرونی محرکات کا مکمل جواب دیں۔ مگر سائنس اس سخت اور غیر معتدل قسم کے اصول علیت کی اب قائل نہیں ہے۔ نظریہ اضافیت اصول تعلیل کو دھوکے (Elusion) کے لفظ سے یاد کرتا ہے۔ انیسویں صدی کے آخر ہی میں سائنس پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ کائنات کے بہت سے مظاہر، بالخصوص روشنی اور قوت کشش، میکانکی تشریح کی ہر کوشش کو نا کام بنا دیتے ہیں ۔ یہ بحث ابھی جاری تھی کہ کیا ایسی مشین بنائی جاسکتی ہے جو نیوٹن کے افکار، باخ کے جذبات اور مائیکل انجلو کے خیالات کا اعادہ کر سکے مگر سائنس دانوں کو بڑی تیزی سے یقین ہوتا جا رہا تھا کہ شمع کی روشنی اور سیب کا گرنا کوئی مشین نہیں دہر اسکتی۔ قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے جو اول روز سے علت اور معلول کی مسلسل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader