حقیقت کی تلاش
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
کڑی کے مطابق ابد تک کے لیے معین ہو چکا ہے۔ مگر بالآخر سائنس کو خود یہ تسلیم کرنا پڑا کہ کائنات کا ماضی اس قدر اٹل طور پر اس کے مستقبل کا سبب نہیں ہے جیسا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔ موجودہ معلومات کی روشنی میں سائنس دانوں کی ایک بڑی اکثریت کا اب اس بات پر اتفاق ہے کہ علم کا دریا ہمیں ایک غیر میکانکی حقیقت (Non-mechanical Reality) کی طرف لیے جا رہا ہے۔ کائنات کی پیدائش اور اس کی حرکت کے بارے میں یہ دونوں نظریے جو سائنسی ترقیوں کے ساتھ وجود میں آئے تھے اب تک یقین کی دولت سے محروم ہیں۔ جدید تحقیقات ان کی بنیاد کو مضبوط نہیں بناتی بلکہ اور کمزور کر دیتی ہے۔ اس طرح گویا سائنس خود ہی اس نظریہ کی تردید کر رہی ہے، اب انسان دوبارہ اسی منزل پر پہنچ گیا ہے جس کو چھوڑ کر اس نے اپنا نیا سفر شروع کیا تھا۔ معبود کی تلاش یہ خالق کی تلاش کا مسئلہ تھا۔ اس کے بعد دوسری چیز جو انسان جاننا چاہتا ہے وہ یہ کہ ”میرا معبود کون ہے“ ہم اپنی زندگی میں صریح طور پر ایک خلا محسوس کرتے ہیں مگر ہم نہیں جانتے کہ اس خلا کو کیسے پر کریں۔ یہی خلا کا احساس ہے جس کو میں نے ”معبود کی تلاش“ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ احساس دو پہلوؤں سے ہوتا ہے۔ اپنے وجود اور باہر کی دنیا پر جب ہم غور کرتے ہیں تو دو نہایت شدید جذبے ہمارے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا شکر اور احسان مندی کا اور دوسرا کمزوری اور عجز کا۔ ہم اپنی زندگی کے جس گوشہ میں بھی نظر ڈالتے ہیں ہمیں صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہماری زندگی کسی کے احسانات سے ڈھکی ہوئی ہے یہ دیکھ کر دینے والے کے لیے ہمارے اندر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader