Urdu book · حقیقت کی تلاش

معبود کی تلاش

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

بے پناہ جذبہ شکر امڈتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اپنی بہترین عقیدتوں کو اپنے محسن پر قربان کر سکیں ۔ یہ تلاش ہمارے لیے محض ایک فلسفیانہ نوعیت کی چیز نہیں ہے بلکہ ہماری نفسیات سے اس کا گہرا تعلق ہے یہ سوال محض ایک خارجی مسئلے کو حل کرنے کا سوال نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ایک اندرونی طلب ہے اور ہمارا پورا وجود اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے۔ غور کیجیے، کیا کوئی شریف آدمی اس حقیقت کو نظر انداز کر سکتا ہے کہ وہ کائنات میں ایک مستقل واقعہ کی حیثیت سے موجود ہے حالانکہ اس میں اس کی اپنی کوششوں کا کوئی دخل نہیں ہے وہ اپنے آپ کو ایک ایسے جسم میں پا رہا ہے جس سے بہتر جسم کا وہ تصور نہیں کر سکتا حالانکہ اس جسم کو اس نے خود نہیں بنایا ہے۔ اس کو ایسی عجیب وغریب قسم کی ذہنی قوتیں حاصل ہیں جو کسی بھی دوسرے جاندار کو نہیں دی گئی ہیں حالاں کہ ان قوتوں کو حاصل کرنے کے لیے اس نے کچھ بھی نہیں کیا ہے اور نہ وہ کچھ کر سکتا ہے۔ ہمارا وجود ذاتی نہیں ہے بلکہ عطیہ ہے۔ یہ عطیہ کس نے دیا ہے، انسانی فطرت اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتی ہے تا کہ وہ اپنے اس عظیم محسن کا شکر ادا کر سکے ۔ پھر اپنے جسم کے باہر دیکھئے ۔ دنیا میں ہم اس حال میں پیدا ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہوتا ، نہ ہم کو کائنات کے اوپر کوئی اختیار حاصل ہے کہ ہم اس کو اپنی ضرورت کے مطابق بنا سکیں ۔ ہماری ہزاروں ضرورتیں ہیں۔ مگر کسی ایک ضرورت کو بھی ہم خود سے پورا نہیں کر سکتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں حیرت انگیز طور پر ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام کیا گیا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ اس بات کی منتظر ہے کہ انسان پیدا ہوا اور وہ اس کی خدمت میں لگ جائے ۔ مثال کے طور پر آواز کو لیجیے جس کے ذریعہ سے ہم اپنا خیال دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ہمارے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات زبان کا ارتعاش بن کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page