Urdu book · حقیقت کی تلاش

معبود کی تلاش

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے کے کان تک پہنچیں اور وہ ان کو قابل فہم آوازوں کی صورت میں سن سکے۔ اس کے لیے ہمارے اندر اور باہر بیشمار انتظامات کیے گئے ہیں جن میں سے ایک وہ درمیانی واسطہ ہے جس کو ہم ہوا کہتے ہیں۔ ہم جو الفاظ بولتے ہیں وہ بے آواز لہروں کی صورت میں ہوا پر اسی طرح سفر کرتے ہیں جس طرح پانی کی سطح پر موجیں پیدا ہوتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ میرے منہ سے نکلی ہوئی آواز کے آپ تک پہنچنے کے لیے درمیان میں ہوا کا موجود ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ درمیانی واسطہ نہ ہو تو آپ میرے ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھیں گے مگر میری آواز نہ سنیں گے۔ مثال کے طور پر ایک بند فانوس کے اندر برقی گھنٹی رکھ کر اسے بجائے جائے تو اس کی آواز صاف سنائی دے گی۔ لیکن اگر فانوس کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال دیا جائے اور اس کے بعد گھنٹی بجائی جائے تو آپ شیشہ کے اندر گھنٹی کو بجتا ہوا دیکھیں گے مگر اس کی آواز بالکل سنائی نہ دے گی۔ کیوں کہ گھنٹی کے بجنے سے جو ارتعاش پیدا ہوتا ہے اس کو قبول کر کے آپ کے کانوں تک پہنچانے کے لیے فانوس کے اندر ہوا موجود نہیں ہے۔ مگر یہ ذریعہ بھی ناکافی ہے کیونکہ ہوا کے ذریعہ ہماری آواز پانچ سیکنڈ میں صرف ایک میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہوا کا ذریعہ صرف قریبی ماحول میں گفتگو کے لیے کارآمد ہے، وہ ہماری آواز کو دور تک نہیں پہنچا سکتا۔ اگر آواز صرف ہوا کے ذریعہ پھیلتی تو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ مگر قدرت نے اس کے لیے ہمیں ایک اور انتہائی تیز رفتار ذریعہ مہیا کیا ہے، یہ روشنی یا برقی رو ہے جس کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل ہے۔ لاسلکی پیغامات میں اسی ذریعہ سے کام لیا جاتا ہے۔ جب کوئی مقرر ریڈیو اسٹیشن میں لگے ہوئے مائیکروفون کے قریب آواز نکالتا ہے تو مائیکروفون آواز کو جذب کر کے اسے برقی رو میں تبدیل کر دیتا ہے اور تار کے ذریعہ اس کو آلہ نشریا ٹرانس میٹر تک بھیج دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page