Urdu book · حقیقت کی تلاش

معبود کی تلاش

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

آلات نشر آواز کے پہنچتے ہی مرتعش ہو کر فضا میں وہی ارتعاش پیدا کر دیتے ہیں۔ اس طرح پانچ سیکنڈ میں ایک میل چلنے والی آواز برق لہروں میں تبدیل ہو کر ایک سیکنڈ میں دو لاکھ میل کی رفتار حاصل کر لیتی ہے۔ اور دم بھر میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ یہی لاسلکی موجیں ہیں جن کو ہمارے ریڈیوسٹ کی آواز گیر مشین قبول کر کے بلند آواز میں ان کا اعادہ کر دیتی ہے اور پھر ہزاروں میل دور بولی ہوئی آواز کو ہم کسی تاخیر کے بغیر سننے لگتے ہیں۔ یہ ان بیشمار انتظامات میں سے ایک ہے جس کو میں نے بیان کیا ہے بلکہ اس کا صرف نام لیا ہے۔ اگر اس کا اور دوسری چیزوں کا تفصیلی ذکر کیا جائے تو اس کے لیے کروڑوں صفحے درکار ہوں گے اور پھر بھی ان کا بیان ختم نہ ہوگا۔ یہ عطیات جن سے ہر آن آدمی دو چار ہو رہا ہے اور جن کے بغیر اس زمین پر انسانی زندگی اور تمدن کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا، انسان جاننا چاہتا ہے کہ یہ سب کس نے اس کے لیے مہیا کیا ہے ہر آن جب وہ کسی نعمت سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ جذبہ شکر امڈتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اپنے محسن کو پائے اور اپنے آپ کو اس کے قدموں میں ڈال دے۔ محسن کے احسانات کو ماننا، اس کو اپنے دل کی گہرائیوں میں جگہ دینا اور اس کی خدمت میں اپنے بہترین جذبات کو نذر کرنا یہ انسانی فطرت کا شریف ترین جذبہ ہے۔ ہر آدمی جو اپنی زندگی اور کائنات پر غور کرتا ہے اس کے اندر نہایت شدت سے یہ جذبہ ابھرتا ہے۔ پھر کیا اس جذبہ کا کوئی جواب نہیں۔ کیا انسان اس کائنات کے اندر ایک یتیم بچہ ہے جس کے اندر امڈتے ہوئے جذبات محبت کی تسکین کے لیے کوئی ہستی موجود نہ ہو۔ کیا یہ ایک ایسی کائنات ہے جہاں احسانات ہیں مگر محسن کا پتہ نہیں ۔ جہاں جذبہ ہے مگر جذبہ کی تسکین کا کوئی ذریعہ نہیں۔ یہ معبود کی تلاش کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے حالات فطری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page