Urdu book · حقیقت کی تلاش

معبود کی تلاش

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر تقاضا کرتے ہیں کہ کائنات کے اندر اس کا کوئی سہارا ہو۔ اگر ہم آنکھ کھول کر دیکھیں تو ہم اس دنیا میں ایک انتہائی عاجز اور بے بس مخلوق ہیں۔ ذرا اس خلا کا تصور کیجئے جس میں ہماری یہ زمین سورج کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ زمین کی گولائی تقریباً 25 ہزار میل ہے۔ اور وہ ناچتے ہوئے لٹو کے مانند اپنے محور پر مسلسل اس طرح گھوم رہی ہے کہ ہر 24 گھنٹے میں ایک چکر پورا ہو جاتا ہے۔ گویا اس کی رفتار تقریباً ایک ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اسی کے ساتھ وہ سورج کے چاروں طرف اٹھارہ کروڑ ساٹھ لاکھ میل کے لمبے دائرہ میں نہایت تیزی سے دوڑ رہی ہے۔ خلا کے اندر اس قدر تیز دوڑتی ہوئی زمین پر ہمارا وجود قائم رکھنے کے لیے زمین کی رفتار کو ایک خاص اندازہ کے مطابق رکھا گیا ہے اگر ایسا نہ ہو تو زمین کے اوپر انسان کی حالت ان سنگ ریزوں کی مانند ہو جائے جو کسی متحرک پہیہ پر رکھ گئے ہوں، اسی کے ساتھ مزید انتظام یہ ہے کہ زمین کی کشش ہم کو کھینچے ہوئے ہے اور اوپر سے ہوا کا زبردست دباؤ پڑتا ہے۔ ہوا کے ذریعہ جو دباؤ پڑ رہا ہے وہ جسم کے ہر مربع انچ پر پندرہ پونڈ تک معلوم کیا گیا ہے، یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً 280 من کا دباؤ۔ ان حیرت انگیز انتظامات نے ہم کو خلا میں مسلسل دوڑتی ہوئی زمین کے چاروں طرف قائم کر رکھا ہے۔ پھر ذرا سورج پر غور کیجیے ۔ سورج کی جسامت آٹھ لاکھ 65 ہزار میل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہماری زمین سے دس لاکھ گنا بڑا ہے۔ یہ سورج آگ کا دہکتا ہوا سمندر ہے جس کے قریب کوئی بھی چیز ٹھوس حالت میں نہیں رہ سکتی۔ زمین اور سورج کے درمیان اس وقت تقریباً ساڑھے نو کروڑ میل کا فاصلہ ہے، اگر اس کے بجائے وہ اس کے نصف فاصلہ پر ہو تو سورج کی گرمی سے چیزیں جلنے لگیں ۔ اور اگر وہ چاند کی جگہ یعنی دو لاکھ چالیس ہزار میل کے فاصلہ پر آ جائے تو زمین پگھل کر بخارات میں تبدیل ہو جائے۔ یہی سورج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page