معبود کی تلاش
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جس سے زمین پر زندگی کے تمام مظاہر قائم ہیں۔ اس مقصد کے لیے اس کو ایک خاص فاصلہ پر رکھا گیا ہے۔ اگر وہ دور چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے اور اگر قریب آ جائے تو ہم سب لوگ جل بھن کر خاک ہو جائیں۔ پھر ذرا اس کائنات کی وسعت کو دیکھیے اور اس قوتِ کشش پر غور کیجیے جو اس عظیم کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ کائنات ایک بے انتہا وسیع کارخانہ ہے، اس کی وسعت کا اندازہ ماہرین فلکیات کے نزدیک یہ ہے کہ روشنی جس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے، اس کو کائنات کے گرد ایک چکر طے کرنے میں کئی ارب برس درکار ہوں گے۔ یہ نظام شمسی جس کے اندر ہماری زمین ہے، بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے مگر پوری کائنات کے مقابلہ میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کائنات میں اس سے بہت بڑے بڑے بے شمار ستارے لامحدود وسعتوں میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں بہت سے اتنے بڑے ہیں کہ ہمارا پورا نظام شمسی اس کے اوپر رکھا جا سکتا ہے۔ جو قوت کشش ان بیشمار دنیاؤں کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کی عظمت کا تصور اس سے کیجیے کہ سورج جس بے پناہ طاقت سے زمین کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور اس کو وسیع ترین فضا میں گر کر برباد ہو جانے سے روکتا ہے، یہ غیر مرئی طاقت اس قدر قوی ہے کہ اگر اس مقصد کے لیے کسی مادی شے سے زمین کو باندھنا پڑتا تو جس طرح گھاس کی پتیاں زمین کو ڈھانکے ہوئے ہیں، اسی طرح دھاتی تاروں سے کُرۂ ارض ڈھک جاتا۔ ہماری زندگی بالکلیہ ایسی طاقتوں کے رحم و کرم پر ہے جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ انسان کی زندگی کے لیے دنیا میں جو انتظامات ہیں اور جن کی موجودگی کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا، وہ اتنے بلند پیمانہ پر ہورہے ہیں اور ان کو وجود میں لانے کے لیے اتنی غیر معمولی قوت تصرف درکار ہے کہ انسان خود سے انھیں وجود میں لانے کا تصور نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader