Urdu book · حقیقت کی تلاش

معبود کی تلاش

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودات کے لیے جو طریق عمل مقرر کیا گیا ہے، اس کا مقرر کرنا تو درکنار اس پر کنٹرول کرنا بھی انسان کے بس کی بات نہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ اگر کائنات کی غیر معمولی قوتیں میرے ساتھ ہم آہنگی نہ کریں تو میں زمین پر ٹھہر بھی نہیں سکتا، اس کے اوپر ایک متمدن زندگی کی تعمیر تو بہت دور کی بات ہے۔ ایسی ایک کائنات کے اندر جب انسان اپنے حقیر وجود کو دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے بھی زیادہ بے بس محسوس کرنے لگتا ہے جتنا کہ سمندر کی موجوں کے درمیان ایک چیونٹی اپنے آپ کو بچانے کی جدوجہد کر رہی ہو۔ وہ بے اختیار چاہتا ہے کہ کوئی ہو جو اس اتھاہ کائنات میں اس کا سہارا بن سکے ۔ وہ ایک ایسی ہستی کی پناہ ڈھونڈھنا چاہتا ہے جو کائنات کی قوتوں سے بالاتر ہو اور جس کی پناہ میں آجانے کے بعد وہ اپنے آپ کو محفوظ و مامون تصور کر سکے۔ یہ وہ جذبے ہیں جن کو میں نے معبود کی تلاش کا عنوان دیا ہے۔ معبود کی تلاش دراصل ایک فطری جذبہ ہے جس کا مطلب ایک ایسی ہستی کی تلاش ہے جو آدمی کی محبت اور اس کے اعتماد کا مرکز بن سکے۔ موجودہ زمانہ میں قوم، وطن اور ریاست کو انسان کی اس طلب کا جواب بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جدید تہذیب یہ کہتی ہے کہ اپنی قوم، اپنے وطن اور اپنی ریاست کو یہ مقام دو کہ وہ تمہاری عقیدتوں کا مرکز بنے اور اس سے وابستگی کو اپنا سہارا بناؤ۔ ان چیزوں کو معبود کے نام پر پیش نہیں کیا جاتا مگر زندگی میں ان کو جو مقام دیا گیا ہے وہ تقریباً وہی ہے جو دراصل ایک معبود کا ہونا چاہیے۔ مگر ان چیزوں کو معبود کی جگہ دینا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کو ایک رفیق زندگی کی ضرورت ہو تو اس کی خدمت میں آپ پتھر کی ایک سل پیش کر دیں۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ انسان کے اندر تلاش کا یہ جذبہ جو ابھرتا ہے اس کے اسباب انسانی نفسیات میں بہت گہرائی تک پھیلے ہوئے ہیں، وہ ایک ایسی ہستی کی تلاش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page