حقیقت کی تلاش
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ہے جو ساری کائنات پر محیط ہو۔ اس طلب کا جواب کسی جغرافیائی خطہ میں نہیں مل سکتا۔ یہ چیزیں یہ زیادہ سے زیادہ ایک سماج کی تعمیر میں کچھ مدد دے سکتی ہیں مگر وہ انسان کے تلاش معبود کے جذبے کی تسکین نہیں بن سکتیں ، اس کے لیے ایک کائناتی وجود درکار ہے۔ انسان کو اپنی محبتوں کے مرکز کے لیے ایک ایسا وجود چاہیے جس نے زمین و آسمان کو بنایا ہو۔ اپنے سہارے کے لیے اسے ایک ایسی طاقت کی تلاش ہے جو کائنات کے اوپر حکمراں ہو۔ جب تک انسان ایسے ایک وجود کو نہیں پائے گا اس کا خلا بدستور باقی رہے گا، کوئی دوسری چیز اسے پر کرنے والی نہیں بن سکتی۔ انجام کی تلاش حقیقت کی تلاش کا تیسرا جزء اپنے انجام کی تلاش ہے۔ آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جائے گا۔ وہ اپنے اندر بہت سے حوصلے اور تمنائیں پاتا ہے وہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ان کی تسکین کس طرح ہوگی۔ وہ موجودہ محدود زندگی کے مقابلہ میں ایک طویل تر زندگی چاہتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ اس کو کہاں پائے گا۔ اس کے اندر بہت سے اخلاقی اور انسانی احساسات ہیں جو دنیا میں بری طرح پامال کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ اپنی پسندیدہ دنیا کو حاصل نہ کر سکے گا۔ یہ سوالات کس طرح انسان کے اندر سے ابلتے ہیں اور کائنات کا مطالعہ کس طرح اس کے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتا ہے، اس موقع پر اس کی تھوڑی سی تفصیل مناسب ہوگی۔ ماہرین حیاتیات کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ شکل میں تین لاکھ برس سے زمین پر موجود ہے۔ اس کے مقابلہ میں کائنات کی عمر بہت زیادہ ہے یعنی دولاکھ ارب سال (20 نیل سال )۔ اس سے پہلے کائنات برقی ذرات کے ایک غبار کی شکل میں تھی ، پھر اس میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader