انجام کی تلاش
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
حرکت ہوئی اور مادہ سمٹ سمٹ کر مختلف جگہوں میں جمع ہونا شروع ہو گیا۔ یہی وہ جمع شدہ مادہ ہے جس کو ہم ستارے، سیارے یا سحابے کہتے ہیں۔ یہ مادی ٹکڑے گیس کے مہیب گولے کی شکل میں نا معلوم مدت تک فضا میں گردش کرتے رہے ۔ تقریباً دو ارب سال پہلے ایسا ہوا کہ کائنات کا کوئی بڑا ستارہ فضا میں سفر کرتا ہوا آفتاب کے قریب آنکلا جو اس وقت اب سے بہت بڑا تھا۔ جس طرح چاند کی کشش سے سمندر میں اونچی اونچی لہریں اٹھتی ہیں اسی طرح اس دوسرے ستارے کی کشش سے ہمارے آفتاب پر ایک عظیم طوفان بر پا ہوا، زبردست لہریں پیدا ہوئیں جو رفتہ رفتہ نہایت بلند ہوئیں اور قبل اس کے کہ وہ ستارہ آفتاب سے دور ہٹنا شروع ہو، اس کی قوت کشش اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ آفتاب کی ان زبردست گیسی لہروں کے کچھ حصے ٹوٹ کر ایک جھٹکے کے ساتھ دور فضا میں نکل گئے۔ یہی بعد کو ٹھنڈے ہو کر نظام شمسی کے توابع بنے۔ اس وقت سے یہ سب ٹکڑے آفتاب کے گرد گھوم رہے ہیں اور ان ہی میں سے ایک ہماری زمین ہے۔ زمین ابتداً ایک شعلہ کی حالت میں سورج کے گرد گھوم رہی تھی، مگر پھر فضا میں مسلسل حرارت خارج کرنے کی وجہ سے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی، یہ عمل کروڑوں برس ہوتا رہا یہاں تک کہ وہ بالکل سرد ہو گئی۔ مگر سورج کی گرمی اب بھی اس پر پڑ رہی تھی جس کی وجہ سے بخارات اٹھنا شروع ہوئے اور گھٹاؤں کی شکل میں اس کی فضا کے اوپر چھا گئے۔ پھر یہ بادل برسنا شروع ہوئے اور ساری زمین پانی سے بھر گئی۔ زمین کا اوپری حصہ اگر چہ ٹھنڈا ہو گیا تھا مگر اس کا اندرونی حصہ اب بھی گرم تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمین سکڑنے لگی۔ اس کی وجہ سے زمین کے اندر کی گرم گیسوں پر دباؤ پڑا اور وہ باہر نکلنے کے لیے بے قرار ہو گئیں، تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد زمین پھٹنے لگی۔ جگہ جگہ بڑے بڑے شگاف پڑ گئے، اس طرح بحری طوفانوں، خوفناک زلزلوں اور آتش فشاں دھماکوں میں ہزاروں سال گزر گئے۔ ان ہی زلزلوں سے زمین کا کچھ حصہ اوپر ابھر آیا اور کچھ حصہ دب گیا۔ دبے ہوئے حصوں میں پانی بھر گیا اور وہ سمندر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader