Urdu book · حقیقت کی تلاش

انجام کی تلاش

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

کھلائے اور ابھرے ہوئے حصوں نے براعظم کی صورت اختیار کی بعض اوقات یہ ابھار اس طرح واقع ہوا کہ بڑی بڑی اونچی باڑھئیں سی بن گئیں ، یہ دنیا کے پہلے پہاڑ تھے۔ ماہرین ارضیات کا خیال ہے کہ ایک ارب 23 کروڑ سال ہوئے ، جب پہلی بار زمین پر زندگی پیدا ہوئی۔ یہ چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے جو پانی کے کنارے وجود میں آئے ۔ اس کے بعد مختلف قسم کے جانور پیدا ہوتے اور مرتے رہے۔ کئی ہزار سال تک زمین پر صرف جانور رہے ۔ اس کے بعد سمندری پودے نمودار ہوئے اور خشکی پر بھی گھاس اگنا شروع ہوئی۔ اس طرح لمبی مدت تک بے شمار واقعات ظہور میں آتے رہے، یہاں تک کہ انسانی زندگی کے لیے حالات سازگار ہوئے اور زمین پر انسان پیدا ہوا۔ اس نظریہ کے مطابق انسان کی ابتداء پچھلے تین لاکھ سال سے ہوئی ہے ۔ یہ مدت بہت ہی کم ہے ۔ وقت کے جو فاصلے کائنات نے طے کیے ہیں ان کے مقابلہ میں انسانی تاریخ چشم زدن سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ پھر اگر انسانیت کی اکائی کو لیجئے تو معلوم ہوگا کہ ایک انسان کی عمر کا اوسط سو سال سے بھی کم ہے۔ ایک طرف اس واقعہ کو سامنے رکھیئے اور پھر اس حقیقت پر غور کیجئے کہ کائنات میں انسان سے بہتر کوئی وجود معلوم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ زمین و آسمان کی اربوں اور کھربوں سال کی گردش کے بعد جو بہترین مخلوق اس کائنات کے اندر وجود میں آئی ہے وہ انسان ہے۔ مگر یہ حیرت انگیز انسان جو ساری دنیا پر فوقیت رکھتا ہے، جو تمام موجودات میں سب سے افضل ہے اس کی زندگی چند سال سے زیادہ نہیں۔ ہمارا وجود جن مادی اجزاء سے مرکب ہے ان کی عمر تو اربوں اور کھربوں سال ہو اور وہ ہمارے مرنے کے بعد بھی باقی رہ جائیں مگر ان مادی اجزاء کی یکجائی سے جو اعلیٰ ترین وجود بنتا ہے وہ صرف سو برس زندہ رہے ۔ جو کائنات کا حاصل ہے وہ کائنات سے بھی کم عمر رکھتا ہے تاریخ کے طویل ترین دور میں بے شمار واقعات کیا صرف اس لیے جمع ہوئے تھے کہ ایک انسان کو چند دنوں کے لیے پیدا کر کے ختم ہو جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page