Urdu book · حقیقت کی تلاش

انجام کی تلاش

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

زمین پر آج جتنے انسان پائے جاتے ہیں اگر ان میں کا ہر آدمی چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو اس پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جاسکتا ہے جو طول و عرض اور بلندی میں ایک میل ہو۔ بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہی ہے۔ پھر اگر اس صندوق کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دے دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں جا گرے گا۔ صدیاں گزر جائیں گی، نسل انسانی اپنے کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لیے پڑی رہے گی، دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں کبھی انسان کی قسم کی کوئی نسل آباد تھی ۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح بدستور طوفان آتے رہیں گے، سورج اسی طرح چمکتا رہے گا، کرہ ارض اپنے محور پر بدستور چکر کرتا رہے گا، کائنات کی لامحدود پہنائیوں میں پھیلی ہوئی بے شمار دنیائیں اتنے بڑے حادثہ کو ایک معمولی واقعہ سے زیادہ اہمیت نہ دیں گی ۔ کئی صدیوں کے بعد ایک اونچا سا مٹی کا ڈھیر زبان حال سے بتائے گا کہ نسل انسانی کی قبر ہے جہاں وہ صدیوں پہلے ایک چھوٹے سے صندوق میں دفن کی گئی تھی۔ کیا انسان کی قیمت بس اسی قدر ہے، مادہ کو کوٹیے، پیٹیے، جلائیے، کچھ بھی کیجیے، وہ ختم نہیں ہوتا، وہ ہر حال میں اپنے وجود کو باقی رکھتا ہے۔ مگر انسان جو مادہ سے برتر مخلوق ہے کیا اس کے لیے بقا نہیں ۔ یہ زندگی جو ساری کائنات کا خلاصہ ہے، کیا وہ اتنی بے حقیقت ہے کہ اتنی آسانی سے اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ کیا انسانی زندگی کا منتہا بس یہی ہے کہ وہ کائنات میں اپنے ننھے سے وطن پر چند دنوں کے لیے پیدا ہوا اور پھر فنا ہو کر رہ جائے تمام انسانی علم اور ہماری کامرانیوں کے سارے واقعات ہمارے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں اور کائنات اس طرح باقی رہ جائے گویا نسل انسانی کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت ہی نہیں تھی۔ اس سلسلہ میں دوسری چیز جو صریح طور پر محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ اگر زندگی بس اسی دنیا کی زندگی ہے تو یہ ایک ایسی زندگی ہے جس میں ہماری امنگوں کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔ ہر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page