Urdu book · حقیقت کی تلاش

انجام کی تلاش

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان لامحدود مدت تک زندہ رہنا چاہتا ہے، کسی کو بھی موت پسند نہیں، مگر اس دنیا میں پیدا ہونے والا جانتا ہے کہ وہ ایسی زندگی سے محروم ہے۔ آدمی خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے، ہر آدمی کی یہ خواہش ہے کہ وہ دکھ درد اور ہر قسم کی تکلیفوں سے محفوظ رہ کر زندگی گزارے، مگر حقیقی معنوں میں کیا کوئی شخص بھی ایسی زندگی حاصل کر سکتا ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کو اپنے حوصلوں کی تکمیل کا آخری حد تک موقع ملے، وہ اپنی ساری تمناؤں کو عمل کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے مگر اس محدود دنیا میں وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ ہم جو کچھ چاہتے ہیں، یہ کائنات اس کے لیے بالکل ناسازگار معلوم ہوتی ہے وہ ہر چند قدم کے بعد ہمارا راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے، کائنات صرف ایک حد تک ہمارا ساتھ دیتی ہے، اس کے بعد ہم کو مایوس اور ناکام لوٹا دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانی زندگی محض غلطی سے ایک ایسی کائنات میں بھٹک آئی ہے جو دراصل اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی اور جو بظاہر زندگی اور اس کے متعلقات سے بالکل بے پروا ہے۔ کیا ہمارے تمام جذبات و خیالات اور ہماری تمام خواہشیں غیر حقیقی ہیں جن کا واقعی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہمارے تمام بہترین تخیلات کائنات کے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں اور ہمارے ذہنوں میں بالکل الّل ٹپ طریقے سے پیدا ہو گئے ہیں۔ وہ تمام احساسات جن کو لے کر انسانی نسل پچھلے ہزاروں سال سے پیدا ہورہی ہے اور جن کو اپنے سینہ میں لیے ہوئے وہ اس حال میں دفن ہو جاتی ہے کہ وہ انھیں حاصل نہ کرسکی ، کیا ان احساسات کی کوئی منزل نہیں۔ کیا وہ انسانوں کے ذہن میں بس یونہی پیدا ہورہے ہیں جن کے لیے نہ تو ماضی میں کوئی بنیاد موجود ہے اور نہ مستقبل میں ان کا کوئی مقام ہے۔ ساری کائنات میں صرف انسان ایک ایسا وجود ہے جو کل (Tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ یہ صرف انسان کی خصوصیت ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں سوچتا ہے اور اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page