انجام کی تلاش
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
آئندہ حالات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض جانور مثلاً چیونٹیاں خوراک جمع کرتی ہیں یا بیا گھونسلے بناتا ہے ۔ مگر ان کا یہ عمل غیر شعوری طور پر محض عادتاً ہوتا ہے۔ ان کی عقل اس کا فیصلہ نہیں کرتی کہ انھیں خوراک جمع کر کے رکھنا چاہیے تا کہ کل ان کے کام آسکے یا ایسا گھر بنانا چاہیے جو موسموں کے رد و بدل میں تکلیف سے بچائے۔ انسان اور دوسری مخلوقات کا یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ انسان کو تمام دوسری چیزوں سے زیادہ موقع ملنا چاہیے، جانوروں کے لیے زندگی صرف آج کی زندگی ہے، وہ زندگی کا کوئی کل نہیں رکھتے، کیا اسی طرح انسانی زندگی کا بھی کوئی کل نہیں ہے۔ ایسا ہونا فطرت کے خلاف ہے، فردا (future) کا تصور جو انسان میں پایا جاتا ہے اس کا صریح تقاضا ہے کہ انسان کی زندگی اس سے کہیں زیادہ بڑی ہو جتنی آج اسے حاصل ہے انسان "کل" چاہتا ہے مگر اس کو صرف "آج" دیا گیا ہے۔ اسی طرح جب ہم سماجی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو ایک خلا کا زبردست احساس ہوتا ہے۔ ایک طرف مادی دنیا ہے جو اپنی جگہ پر بالکل مکمل نظر آتی ہے۔ وہ ایک متعین قانون میں جکڑی ہوئی ہے اور اس کی ہر چیز اپنے مقرر راستہ پر چلی جا رہی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں مادی دنیا ویسی ہی ہے جیسی کہ اسے ہونا چاہیے مگر انسانی دنیا کا حال اس سے مختلف ہے۔ یہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے تھا۔ ہم صریح طور پر دیکھتے ہیں کہ ایک انسان دوسرے انسان پر ظلم کرتا ہے اور دونوں اس حال میں مرجاتے ہیں کہ ایک ظالم ہوتا ہے اور دوسرا مظلوم ۔ کیا ظالم کو اس کے ظلم کی سزا اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کا بدلہ دیے بغیر دونوں کی زندگی کو مکمل کہا جاسکتا ہے۔ ایک شخص سچ بولتا ہے اور حق داروں کو ان کے حقوق ادا کرتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی مشکل کی زندگی بن جاتی ہے، دوسرا شخص جھوٹ اور فریب سے کام لیتا ہے اور جس کی جو چیز پاتا ہے ہڑپ کر لیتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کی زندگی نہایت عیش و عشرت کی زندگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader