انجام کی تلاش
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
بن جاتی ہے۔ اگر یہ دنیا اسی حال میں ختم ہو جائے تو کیا دونوں انسانوں کے اس مختلف انجام کی کوئی توجیہ کی جاسکتی ہے ۔ ایک قوم دوسری قوم پر ڈاکہ ڈالتی ہے اور اس کے وسائل و ذرائع پر قبضہ کر لیتی ہے مگر اس کے باوجود دنیا میں وہی نیک نام رہتی ہے کیونکہ اس کے پاس نشر و اشاعت کے ذرائع ہیں اور دبی ہوئی قوم کی حالت سے دنیا نا واقف رہتی ہے کیونکہ اس کی آہ کے دنیا کے کانوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں ، کیا ان دونوں کی صحیح حیثیت کبھی ظاہر نہیں ہوگی ۔ دو اشخاص یا دو قوموں میں ایک مسئلہ پر اختلاف ہوتا ہے اور زبردست کش مکش تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ دونوں اپنے آپ کو بر سر حق کہتے ہیں اور ایک دوسرے کو انتہائی برا ثابت کرتے ہیں مگر دنیا میں ان کے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوتا، کیا ایسی کوئی عدالت نہیں ہے جو ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر سکے ۔ موجودہ دور کو سائیٹی دور کہا جاتا ہے لیکن اگر اس کو دوسری کا دور کہیں تو زیادہ صحیح ہوگا۔ آج کا انسان صرف اپنی رائے اور خواہش پر چلنا چاہتا ہے خواہ اس کی رائے اور خواہش کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو ۔ ہر شخص غلط کار ہے مگر ہر شخص گلے کی پوری قوت کے ساتھ اپنے کو صحیح ثابت کر رہا ہے ۔ اخبارات میں لیڈروں اور حکمرا نوں کے بیانات دیکھیے ، ہر ایک انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ اپنے ظلم کو عین انصاف اور اپنی غلط کاریوں کو عین حق ثابت کرتا ہو نظر آئے گا۔ کیا اس فریب کا پردہ کبھی چاک ہونے والا نہیں ۔ یہ صورت حال صریح طور پر ظاہر کر رہی ہے کہ یہ دنیا نامکمل ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے ایک ایسی دنیا چاہیے جہاں ہر ایک کو اس کا صحیح مقام مل سکے۔ مادی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں کوئی خلا ہے اس کو پر کرنے کے اسباب موجود ہیں ۔ مادی دنیا میں کہیں کوئی کمی نظر نہیں آتی ۔ اس کے برعکس انسانی دنیا میں ایک زبردست خلا ہے ۔ جس قدرت نے مادی دنیا کو مکمل حالات میں ترقی دی ہے کیا اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader