انجام کی تلاش
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
پاس انسانی دنیا کا خلا پر کرنے کا کوئی سامان نہیں۔ ہمارا احساس بعض افعال کو اچھا اور بعض کو برا سمجھتا ہے۔ ہم کچھ باتوں کے متعلق چاہتے ہیں کہ وہ ہوں اور کچھ باتوں کو چاہتے ہیں کہ وہ نہ ہوں ۔ مگر ہماری فطری خواہش کے علی الرغم وہ سب کچھ یہاں ہو رہا ہے جس کو انسانی فطرت برا سمجھتی ہے، انسان کے اندر اس طرح کے احساس کی موجودگی یہ معنی رکھتی ہے کہ کائنات کی تعمیر حق پر ہوئی ہے۔ یہاں باطل کے بجائے حق کو غالب آنا چاہیے۔ پھر کیا حق ظاہر نہیں ہوگا۔ جو چیز مادی دنیا میں پوری ہو رہی ہے کیا وہ انسانی دنیا میں پوری نہیں ہوگی۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کے مجموعہ کو میں نے او پر ” انسانیت کے انجام کی تلاش “ کہا ہے۔ ایک شخص جب ان حالات کو دیکھتا ہے تو وہ سخت بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اس کے اندر نہایت شدت سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ زندگی اگر یہی ہے جو اس وقت نظر آرہی ہے تو یہ کس قدر لغوزندگی ہے۔ وہ ایک طرف دیکھتا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے کائنات میں اس قدر اہتمام کیا گیا ہے گویا سب کچھ صرف اسی کے لیے ہے ، دوسری طرف انسان کی زندگی اس قدر مختصر اور اتنی نا کام ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس سوال کے سلسلہ میں آج لوگوں کا رجحان عام طور پر یہ ہے کہ اس قسم کے جھنجھٹ میں پڑ نا فضول ہے ۔ یہ سب فلسفیانہ سوالات ہیں ، اور حقیقت پسندی یہ ہے کہ زندگی کا جو لمحہ تمہیں حاصل ہے اس کو پر مسرت بنانے کی کوشش کرو۔ آئندہ کیا ہوگا یا جو کچھ ہو رہا ہے وہ صحیح ہے یا غلط ، اس کی فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس جواب کے بارے میں کم از کم بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ جو لوگ اس انداز میں سوچتے ہیں انھوں نے ابھی انسانیت کے مقام کو نہیں پہچانا ، وہ مجاز کو حقیقت سمجھ لینا چاہتے ہیں۔ واقعات انھیں ابدی زندگی کا راز معلوم کرنے کی دعوت دے رہے ہیں مگر وہ چند روزہ زندگی پر قانع ہو گئے ہیں ۔ انسانی نفسیات کا تقاضا ہے کہ اپنی امنگوں اور حوصلوں کی تکمیل کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader