Urdu book · حقیقت کی تلاش

انجام کی تلاش

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے ایک وسیع تر دنیا کی تلاش کرو مگر یہ نادان روشنی کے بجائے اس کے سایہ کو کافی سمجھ رہے ہیں۔ کائنات پکار رہی ہے کہ یہ دنیا تمہارے لیے نامکمل ہے، دوسری مکمل دنیا کا کھوج لگاؤ مگر ہمارا فیصلہ ہے کہ ہم اسی نامکمل دنیا میں اپنی زندگی کی عمارت تعمیر کریں گے، ہم کو مکمل دنیا کی ضرورت نہیں ۔ حالات کا صریح اشارہ ہے کہ زندگی کا ایک انجام آنا چاہیے ۔ مگر یہ لوگ صرف آغاز کو لے کر بیٹھ گئے ہیں اور انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر لی ہیں۔ حالانکہ یہ اسی قسم کی ایک حماقت ہے جو شتر مرغ کے متعلق مشہور ہے۔ اگر فی الواقع زندگی کا کوئی انجام ہے تو وہ آ کر رہے گا اور کسی کا اس سے غافل ہونا اس کو روکنے کا سبب نہیں بن سکتا۔ البتہ ایسے لوگوں کے حق میں وہ ناکامی کا فیصلہ ضرور کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زندگی کو کل زندگی سمجھنا اور صرف آج کو پر مسرت بنانے کی کوشش کو اپنا مقصد بنا لینا بڑی کم ہمتی اور بے عقلی کی بات ہے۔ آدمی اگر اپنی زندگی اور کائنات پر تھوڑا سا بھی غور کرے تو اس نقطۂ نظر کی لغویت فوراً واضح ہو جاتی ہے ایسا فیصلہ وہی کر سکتا ہے جو حقیقتوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لے اور بالکل بے سمجھی بوجھی زندگی گزارنا شروع کر دے۔ یہ ہیں وہ چند سوالات جو کائنات کو دیکھتے ہی نہایت شدت کے ساتھ ہمارے ذہن میں ابھرتے ہیں۔ اس کائنات کا ایک خالق ہونا چاہیے، مگر اس کے متعلق ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ اس کا ایک چلانے والا اور اس کو سنبھالنے والا ہونا چاہیے، مگر ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہے۔ ہم کسی کے احسانات سے ڈھکے ہوئے ہیں اور مجسم شکر و سپاس بن کر اس ہستی کو ڈھونڈھنا چاہتے ہیں جس کے آگے اپنے عقیدہ کے جذبات کو نثار کر سکیں، مگر ایسا کوئی وجود ہمیں نظر نہیں آتا۔ ہم اس کائنات کے اندر انتہائی عجز اور بے بسی کے عالم میں ہیں، ہم کو ایک ایسی پناہ کی تلاش ہے جہاں پہنچ کر ہم اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں، مگر ایسی کوئی پناہ ہماری آنکھوں کے سامنے موجود نہیں ہے۔ پھر جب ہم اپنی زندگی اور اپنی عمر کو دیکھتے ہیں تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page