پیغمبر کی ضرورت
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
اب اگر رسول کی بات کو ماننے کے لیے ہم یہ شرط لگائیں کہ وہ جن حقیقتوں کی خبر دے رہا ہے وہ ہمیں چھونے اور دیکھنے کو ملنی چاہئیں تب ہم اسے مانیں گے تو یہ ایک نہایت نامعقول بات ہوگی۔ یہ ایسی ہی بات ہوگی جیسے تاریخ ہند کا کوئی طالب علم ایسٹ انڈیا کمپنی کے حالات کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنے استاد سے کہے کہ کمپنی کے تمام کردار کو میرے سامنے لا کر کھڑا کر دو اور وہ میرے سامنے تمام گزرے ہوئے واقعات کو دہرائیں، تب میں تمہاری تاریخ کو تسلیم کروں گا۔ پھر وہ کون سی بنیادیں ہیں جن کی روشنی میں دیکھ کر ہم یہ فیصلہ کریں کہ یہ دعوت صحیح ہے یا غلط، اور ہم کو اسے قبول کرنا چاہیے یا نہیں۔ میرے نزدیک اس دعوت کو جانچنے کے تین خاص پہلو ہیں۔ اول یہ کہ اس کی توجیہ حقیقت سے کتنی مطابقت رکھتی ہے۔ دوسرے یہ کہ زندگی کے انجام کے بارے میں اس کا دعوی محض دعویٰ ہے یا اس کی کوئی دلیل بھی اس کے یہاں ملتی ہے۔ اور تیسرے یہ کہ اس کے پیش کیے ہوئے کلام میں کیا ایسی کوئی نمایاں خصوصیت پائی جارہی ہے کہ اس کو خدا کا کلام کہا جاسکے۔ ان تینوں پہلوؤں کے اعتبار سے جب ہم رسول کے کام کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک پر وہ نہایت کامیابی کے ساتھ پورا اتر رہا ہے۔ 1۔ رسول نے کائنات کی جو توجیہ کی ہے اس میں ہماری تمام پیچیدگیوں کا حل موجود ہے۔ ہمارے اندر اور ہمارے باہر جتنے سوالات پیدا ہوتے ہیں ان سب کا وہ بہترین جواب ہے۔ 2۔ زندگی کے انجام کے بارے میں اس کا جو دعویٰ ہے اس کے لیے وہ ایک قطعی دلیل بھی اپنے پاس رکھتا ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ زندگی میں وہ اس انجام کا ایک نمونہ ہمیں دکھا دیتا ہے جس کو بعد کی زندگی میں آنے کی وہ خبر دے رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader