Urdu book · حقیقت کی تلاش

حقیقت کی تلاش

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ جس کلام کو خدا کا کلام کہتا ہے اس کے اندر اتنی غیر معمولی خصوصیات پائی جاتی ہیں کہ ماننا پڑتا ہے کہ یقینا یہ ایک فوق الانسانی طاقت کا کلام ہے۔ کسی انسان کا کلام ایسا نہیں ہوسکتا۔ آئیے اب ان تینوں پہلوؤں سے رسول کی دعوت کا جائزہ لیں۔ پیغمبر کی صداقت 1۔ اس کی پہلی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے عین مطابق ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی پیدائش جس فطرت پر ہوئی ہے وہی فطرت اس توجیہہ کی بھی ہے۔ اس توجیہہ کی بنیاد ایک خدا کے وجود پر رکھی گئی ہے، اور ایک خدا کا شعور انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس کے دو نہایت مضبوط قرینے ہیں۔ ایک یہ کہ انسانی تاریخ کے تمام معلوم زمانوں میں انسانوں کی اکثریت بلکہ تقریباً ان کی تمام تعداد نے خدا کے وجود کو تسلیم کیا ہے۔ انسان پر کبھی بھی ایسا کوئی دور نہیں گزرا ہے جب اس کی اکثریت خدا کے شعور سے خالی رہی ہو۔ قدیم ترین زمانوں سے لے کر آج تک انسانی تاریخ کی متفقہ شہادت یہی ہے کہ خدا کا شعور انسانی فطرت کا نہایت طاقت ور شعور ہے۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ انسان پر جب کوئی نازک وقت آتا ہے تو اس کا دل بے اختیار خدا کو پکار اٹھتا ہے، جہاں کوئی سہارا نظر نہیں آتا، وہاں وہ خدا کا سہارا ڈھونڈتا ہے ۔ جاہل ہو یا عالم ۔ خدا پرست ہو یا ملحد، روشن خیال ہو یا تاریک خیال جب بھی اس پر کوئی ایسا وقت گزرتا ہے جہاں عام انسانی قوتیں جواب دیتی ہوئی نظر آتی ہیں تو وہ ایک ایسی ہستی کو پکارتا ہے جو تمام طاقتوں سے بڑھ کر طاقتور ہے اور جو تمام طاقتوں کا خزانہ ہے۔ انسان اپنے نازک ترین لمحات میں خدا کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page