Urdu book · حقیقت کی تلاش

پیغمبر کی صداقت

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

باطل ہونا واضِح ہو اور اچھے اور بُرے الگ الگ کردیے جائیں۔ ہر ایک کو اس کا صحیح مقام دیا جائے۔ اس سوال کا جواب بھی اس توجیہ میں موجود ہے۔ غرض زندگی سے متعلق سارے سوالات کا مکمل جواب ہے اور اتنا بہتر جواب ہے کہ اس سے بہتر جواب کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ اس سے وہ سارے سوالات حل ہو جاتے ہیں جو کائنات کے مطالعہ سے ہمارے ذہن میں پیدا ہوئے تھے۔ 2۔ اس کی دعوت کی دوسری نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ زندگی کے انجام کے بارے میں وہ جو نظریہ پیش کرتا ہے اس کا ایک واقعاتی نمونہ خود اپنی زندگی میں ہمیں دکھائی دیتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا اسی طرح ظالم اور مظلوم کو لیے ہوئے ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ اسکے انجام پر کائنات کا رب ظاہر ہوگا اور سچوں اور جھوٹوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ کردے گا۔ اس دن کے آنے میں جو دیر ہے وہ صرف اس مہلتِ کار کے ختم ہونے کی ہے جو تمہارے لیے مقدر ہے۔ یہ بات وہ صرف کہہ کر نہیں چھوڑ دیتا، بلکہ اسی کے ساتھ اس کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ میں جو کچھ کہتا ہوں اس کے صحیح ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس عدالت کا ایک نمونہ مالکِ کائنات میرے ذریعہ سے اسی دنیا میں تم کو دکھائے گا۔ میرے ذریعہ سے وہ حق کو غالب اور باطل کو مغلوب کرے گا، اپنے فرماں برداروں کو عزت دے گا اور اپنے نافرمانوں کو ذلیل کر کے انھیں عذاب میں مبتلا کرے گا۔ یہ واقعہ بہر حال ظہور میں آئے گا خواہ دنیا کے لوگ کتنی ہی مخالفت کریں اور ساری طاقت اس کے مٹانے پر لگا دیں جس طرح آخرت کا ہونا قطعی طور پر مقدر ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ اسی طرح میری زندگی میں اس کا نمونہ دکھایا جانا بھی لازمی ہے، یہ ایک نشان ہوگا آنے والے دن کا اور یہ دلیل ہوگی اس بات کی کہ کائنات کی تعمیر عدل پر ہوئی ہے اور یہ کہ میں جس طاقت کا نمائندہ ہوں وہ ایک ایسی طاقت ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page