پیغمبر کی صداقت
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
جس کی طاقت سب پر بالا ہے یہ طاقت ایک روز تم کو اپنے سامنے کھڑا کر کے تمام اگلے پچھلے انسانوں کا فیصلہ کرے گی۔ یہ چیلنج وہ اس وقت دیتا ہے جب کہ وہ تنہا ہے ، پوری قوم اس کی دشمن ہوگئی ہے ، خود اپنا ملک اس کو جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ، اس کے قریب ترین اعزانے بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے ، اس کے پاس مادی وسائل و ذرائع میں سے کچھ بھی نہیں۔ ایسا ایک شخص پورے یقین کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ میں غالب ہوں گا اور میرے ذریعہ سے خدا کی عدالت زمین پر قائم ہوگی۔ سننے والے اس کا مذاق اڑاتے ہیں مگر وہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپنا کام کرتا چلا جارہا ہے ملک کی اکثریت اس کے قتل کا فیصلہ کرتی ہے، اس کی معاشیات تباہ کردیتی ہے، اس کو جلاوطنی پر مجبور کرتی ہے۔ اس کو مٹانے پر اپنا سارا زور صرف کردیتی ہے ، مگر اس کے مقابلہ میں یہ سب کچھ بے اثر ثابت ہوتا ہے۔ اگر چہ بہت تھوڑے لوگ اس کا ساتھ دیتے ہیں ، ایک طرف معمولی اقلیت ہوتی ہے اور دوسری طرف زبردست اکثریت ۔ ایک طرف ساز و سامان ہوتا ہے اور دوسری طرف بے سروسامانی۔ ایک طرف ملکی باشندوں اور ہمسایہ قوموں کی حمایت ہوتی ہے اور دوسری طرف اپنوں اور غیروں کی متفقہ مخالفت حالات کی انتہائی ناسازگاری سے اس کے ساتھی اکثر گھبرا اٹھتے ہیں مگر وہ ہر بار یہی کہتا ہے کہ انتظار کرو خدا کا فیصلہ آکر رہے گا، اس کو کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔ اس کے چیلنج پر چوتھائی صدی بھی گزرنے نہیں پاتی کہ وہ مکمل شکل میں پورا ہو جاتا ہے اور تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ظہور میں آتا ہے کہ ایک شخص نے جن دعووں کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا تھا ٹھیک اسی شکل میں اس کا دعویٰ پورا ہوا اور اس کے مخالفین اس میں کوئی کمی بیشی نہ کر سکے ۔ حق اور باطل الگ الگ ہو گیا۔ خدا کے فرماں برداروں کو عزت اور غلبہ حاصل ہوا، اور خدا کے نافرمانوں کا زور توڑ کر انھیں محکوم بنا دیا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader