Urdu book · حقیقت کی تلاش

حقیقت کی تلاش

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح اس دعوت نے انسانوں کے لیے جب انجام کی خبر دی تھی اس کا ایک نمونہ دنیا میں قائم کر دیا گیا جو قیامت تک کے لیے عبرت کا نشان ہے، اس نمونہ کی تکمیل آخرت میں ہوگی جب سارے انسانوں کو خدا کی عدالت میں حاضر کر کے ان کا آخری فیصلہ کیا جائے گا۔ 3۔ اس شخص کے دعوے کے برحق ہونے کا تیسرا ثبوت وہ کلام ہے جس کو وہ کلام الہی کہہ کر پیش کرتا ہے۔ اس کلام کے اوپر کتنی ہی صدیاں گزر چکی ہیں مگر اس کی عظمت، اس کی سچائی اور حقیقت کے بارے میں اس کے بیان کا ایک حرف بھی غلط ثابت نہ ہوسکا جب کہ کوئی بھی انسانی کتاب ایسی نہیں ہے جو ان نقائص سے پاک ہو۔ دوسرے لفظوں میں قرآن بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں مگر میں یہاں صرف تین پہلوؤں کا ذکر کروں گا، ایک اس کا غیر معمولی انداز بیان، دوسرے اس کے معانی کا تضاد سے پاک ہونا، تیسرے اس کی ابدیت۔ قرآن اپنی دلیل آپ 1۔ قرآن ایک غیر معمولی کلام ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مصنف ایک ایسے بلند مقام سے بول رہا ہے جو کسی بھی انسان کو حاصل نہیں۔ اس کی عبارتوں کا شکوہ، اس کی بے پناہ روانی اور اس کا فیصلہ کن انداز بیان اتنا حیرت انگیز طور پر انسانی کلام سے مختلف ہے کہ صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ مالک کائنات کی آواز ہے کسی انسان کی آواز نہیں۔ اس کا پر یقین اور با عظمت کلام خود ہی بول رہا ہے کہ یہ خدا کی کتاب ہے جس میں خدا اپنے بندوں سے مخاطب ہوا ہے۔ قرآن میں کائنات کی حقیقت بتائی گئی ہے۔ انسان کے انجام کی خبر دی گئی ہے اور زندگی سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page