قرآن اپنی دلیل آپ
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
متعلق تمام کھلے اور چھپے حالات پر گفتگو کی گئی ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس قطعی انداز میں بیان ہوا ہے کہ واقعہ کا اظہار و واقعہ کا مشاہدہ معلوم ہونے لگتا ہے۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا آدمی کو حقیقت کا علم نہیں دیا جا رہا ہے بلکہ اس حقیقت کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ وہ واقعہ کو کتاب کے صفحات میں نہیں پڑھ رہا ہے بلکہ اسکرین کے اوپر اس کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ کلام کی یہ قطعیت صاف ظاہر کر رہی ہے کہ یہ ایک ایسی ہستی کا کلام ہے جس کو حقیقتوں کا براہ راست علم ہے۔ کوئی انسان جو حقیقتوں کا ذاتی علم نہ رکھتا ہو، وہ اپنے کلام میں ہر گز ایسا زور پیدا نہیں کر سکتا۔ یہاں میں نمونہ کے طور پر قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت نقل کروں گا: إِذَا السَّمَاءُ اُنْفَطَرَتْ۔ وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ۔ وَإِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ۔ وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ۔ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ۔ يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ۔ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ۔ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ۔ كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ۔ وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ۔ كِرَاماً كَاتِبِينَ۔ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ۔ إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ۔ وَإِنَّ الْفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٍ۔ يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّينِ۔ وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ۔ وَمَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ۔ ثُمَّ مَا أَدْرَاكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ۔ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئاً وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِلَّهِ (82: 1-19)۔ یعنی، جب آسمان پھٹ جائے گا، جب ستارے بکھر جائیں گے، جب دریا اہل پڑیں گے، جب قبریں الٹ دی جائیں گی، اس دن ہر شخص جان لے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو اس نے پیچھے چھوڑا اے انسان تجھ کو خدائے عظیم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader