Urdu book · حقیقت کی تلاش

قرآن اپنی دلیل آپ

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

رکھا ہے۔ جس نے تجھے خلق کیا تیر اتسو یہ فرمایا اور پھر مناسبت قائم کی۔ (who created you, fashioned you and proportioned you) اس نے جیسا چاہا ویسا تم کو بنایا، نہیں بلکہ تم فیصلہ (کے دن) کا انکار کرتے ہو۔ حالاں کہ تمہارے اوپر نگہبان مقرر ہیں صحیح صحیح لکھنے والے۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ یقیناً اچھے لوگوں کے لیے نعمتیں ہیں اور یقیناً برے لوگوں کے لیے جہنم ہے۔ وہ فیصلہ کے روز اس میں ڈالے جائیں گے اور وہ ہر گز اس سے بھاگ نہیں سکتے اور کیا تم جانتے ہو کہ فیصلہ کا دن کیا ہے پھر کیا تم جانتے ہو کہ فیصلہ کا دن کیا ہے وہ ایک ایسا دن ہے جب کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لیے کچھ نہ سکے گا اور اس دن اقتدار صرف خدا کے لیے ہوگا۔ کس قدر یقین سے بھرا ہوا ہے یہ کلام جس میں زندگی کی ابتدا اور انتہا سب کچھ بیان کردی گئی ہے۔ کوئی بھی انسانی کتاب جو زندگی اور کائنات کے موضوع پر لکھی گئی ہو، اس یقین کی مثال پیش نہیں کر سکتی۔ سیکڑوں سال سے انسان کائنات کی حقیقت پر غور کر رہا ہے۔ بڑے بڑے فلسفی اور سائنس داں پیدا ہوئے ، مگر کوئی اس یقین کے ساتھ بولنے کی جرأت نہ کر سکا۔ سائنس آج بھی یہ تسلیم کرتی ہے کہ وہ کسی قطعی اور صحیح علم سے ابھی بہت دور ہے جب کہ قرآن اس قدر یقین کے ساتھ بات کہتا ہے گو یا وہ علم کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور حقیقت سے آخری حد تک واقف ہے۔ 2- قرآن کے کلام الہی ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس نے مابعد الطبیعی حقائق سے لے کر تمدنی مسائل تک تمام اہم امور پر گفتگو کی ہے مگر کہیں بھی اس کے بیانات میں تضاد نہیں پایا جاتا۔ اس کلام کے اوپر تقریباً ڈیڑھ ہزار برس پورے ہو رہے ہیں۔ اس دوران میں بہت سی نئی نئی باتیں انسان کو معلوم ہوئی ہیں مگر اس کی باتوت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page