قرآن اپنی دلیل آپ
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اب بھی کوئی تضاد ظاہر نہ ہوسکا، حالاں کہ انسانوں میں سے کسی ایک فلسفی کا بھی اس حیثیت سے نام نہیں لیا جا سکتا کہ اس کا کلام تضاد اور اختلاف سے پاک ہے۔ اس دوران میں ہزاروں فلسفی پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی عقل سے زندگی اور کائنات کی توجیہ کرنے کی کوشش کی مگر بہت جلد ان کے کلام کا تضاد ظاہر ہو گیا اور زمانہ نے انھیں رد کر دیا۔ کسی کلام کا تضاد سے پاک ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حقیقت سے کلی مطابقت رکھتا ہے ۔ جو شخص حقیقتوں کا علم نہ رکھتا ہو یا صرف جزئی علم اسے حاصل ہو وہ جب بھی حقیقت کو بیان کرنے بیٹھے گا لازمی طور پر تضادات کا شکار ہو جائے گا۔ وہ ایک پہلو کی تشریح کرتے ہوئے دوسرے پہلو کی رعایت نہ کر سکے گا۔ وہ ایک رخ کو کھولے گا تو دوسرے رخ کو بند کر دے گا۔ زندگی اور کائنات کی توجیہ کا سوال ایک ہمہ گیر سوال ہے ۔ اس کے لیے ساری حقیقتوں کا علم ہونا ضروری ہے ۔ اور چونکہ انسان اپنی محدود صلاحیتوں کی بنا پر ساری حقیقتوں کا علم حاصل نہیں کر سکتا۔ اس لیے وہ سارے پہلوؤں کی رعایت بھی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے فلسفوں میں تضاد کا پایا جانا لازمی ہے ۔ قرآن کی یہ خصوصیت کہ وہ اس قسم کے تضادات سے پاک ہے اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ وہ حقیقت کی صحیح ترین تعبیر ہے ، اس کے سوا تمام تعبیریں غلط ہیں، اس واقعہ کو میں مثال کے ذریعہ واضح کروں گا۔ 1۔ زندگی کے موضوع پر جو کتاب لکھی جائے اس کا ایک ضروری باب زندگی کے فرائض متعین کرنا ہے۔ یہ فرائض متعین کرنے میں ضروری ہے کہ ان کے مختلف پہلوؤں کی ٹھیک ٹھیک رعایت کی جائے ۔ ایسا نہ ہو کہ ایک پہلو سے کوئی ایسا حکم دیا جائے جو دوسرے پہلو سے ٹکراتا ہو ۔ مثلاً عورت اور مرد کی حیثیت متعین کرنا تمدنی زندگی کا ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader