قرآن اپنی دلیل آپ
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
اہم مسئلہ ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور نے یہ قرار دیا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان مساوات ہونی چاہیے اور زندگی کے ہر شعبہ میں دونوں کو یکساں طور پر کام کرنے کا موقع دینا چاہیے، مگر یہاں انسانی ساخت کا یہ تمدنی اصول ایک نہایت اہم صورتِ واقعی سے ٹکرا رہا ہے۔ یعنی اس حقیقت سے کہ حیاتیات (Biology) کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان مساوات نہیں، اور یہ ممکن نہیں کہ دونوں یکساں طور پر زندگی کا بوجھ اٹھا سکیں۔ اس کے برعکس قرآن نے تمدنی زندگی میں عورت اور مرد کا جو مقام متعین کیا ہے وہ دونوں کی پیدائشی ساخت کے عین مطابق ہے اور قانون اور حقیقت کے درمیان کوئی تضاد پیدا نہیں ہوتا۔ 2۔ مارکس نے انقلاب کا فلسفہ یہ بتایا ہے کہ جس طرح ایک عالم گیر قانونِ کشش سے ستارے حرکت کر رہے ہیں اسی طرح کچھ ناگریز تاریخی قوانین ہیں جو سماجی تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں۔ یہ قوانین مسلسل طور پر اپنا کام کر رہے ہیں اور اسی کے مطابق انسانی زندگی میں انقلابات آتے ہیں مگر اس فلسفہ کو مرتب کرنے کے ساتھ ہی اس نے یہ نعرہ بھی لگایا کہ: ”دنیا کے مزدورو! متحد ہو جاؤ“ ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اگر سماجی تبدیلیوں کا کوئی نا گزیر تاریخی قانون ہے تو سیاسی جدوجہد کی ضرورت نہیں اور اگر سیاسی جدوجہد کے ذریعہ انقلاب آتا ہے تو پھر نا گزیر تاریخی قانون کے کیا معنی۔ اس کے برعکس قرآن انسانی ارادہ کو تسلیم کرتا ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ زندگی میں جو واقعات پیش آتے ہیں وہ انسان کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ مادی دنیا کی طرح ان واقعات کی کوئی لازمی منطق نہیں ہے۔ بلکہ انسانی کوشش انھیں کوئی بھی شکل دے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader