قرآن اپنی دلیل آپ
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
سکتی ہے۔ یقیناً فطرت کے کچھ قوانین ہیں اور اس سلسلہ میں وہ اہم کام کرتے ہیں مگر ان کے کام کی نوعیت یہ ہے کہ وہ انسانی کوششوں کا ساتھ دے کر اسے منزل تک پہنچا دیتے ہیں نہ کہ خود انسانی کوششیں ان قوانین کا خارجی ظہور ہیں۔ اس طرح قرآن کے نظریہ اور اس کی دعوت میں کوئی تضاد نہیں۔ وہ جب اپنے نظریہ کو قائم کرنے کے لیے لوگوں کو پکارتا ہے تو وہ اپنے فلسفہ کی تصدیق کرتا ہے نہ کہ اس کی تردید۔ اس کے برعکس مارکسی فلسفہ اس کے عملی پروگرام سے صاف ٹکرا رہا ہے، کمیونسٹ پارٹیوں کا وجود حقیقی معنوں میں مارکسی فلسفہ کی تردید ہے، کمیونسٹ مینی فسٹو کا آخری فقرہ اس کے پہلے فقرہ کو رد کر دیتا ہے۔ قرآن کی تعلیمات کو اگر آپ انسانی فلسفوں کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھیں تو اس قسم کی بہت مثالیں پائیں گے۔ 3۔ قرآن کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ تقریباً ڈیڑھ ہزار برس سے زمین پر موجود ہے۔ اس زمانے میں کتنے انقلابات آئے ہیں، تاریخ میں کتنی الٹ پلٹ ہوئی ہے، زمانہ نے کتنی کروٹیں بدلی ہیں، مگر اب تک اس کی کوئی بات غلط ثابت نہیں ہوئی۔ وہ ہر زمانہ کے عقلی امکانات اور تمدنی ضروریات کا مسلسل ساتھ دیتا چلا جا رہا ہے۔ اس کی تعلیمات کی ہمہ گیری کسی مقام پر بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر زمانہ کے مسائل پر حاوی ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ اس کتاب عظیم کی ایک ایسی خصوصیت ہے جو کسی بھی انسانی کتاب کو اب تک حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ انسان کا بنایا ہوا فلسفہ چند ہی دنوں بعد اپنی غلطی ظاہر کر دیتا ہے، مگر صدیوں پر صدیاں گزرتی جا رہی ہیں اور اس کتاب کی صداقت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ یہ قانون اس وقت بنایا گیا تھا جب عرب کے غیر متمدن اور منتشر قبائل میں اسلامی ریاست قائم کرنے کا مسئلہ درپیش تھا، مگر اس کے بعد صدیوں تک وہ اسلامی حکومتوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader