قرآن اپنی دلیل آپ
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام ضرورتیں پوری کرتا رہا اور موجودہ ترقی یافتہ دور میں بھی نہ صرف یہ کہ وہ زمانہ کا ساتھ دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے بلکہ صرف وہی ایک ایسا نظام ہے جو حقیقی معنوں میں زندگی کے مسائل کو حل کر سکتا ہے۔ ڈیڑھ ہزار برس پہلے جس طرح اس نے اپنی برتری ثابت کی تھی آج بھی وہ اسی طرح تمام فلسفوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ زندگی کے بارے میں اس نے جو نظریات پیش کیے تھے اور فرد اور جماعت کے عمل کے لیے جو خاکہ تجویز کیا تھا وہ آج بھی نہ تو پرانا ہوا ہے اور نہ اس میں کسی نقص کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ اس دوران میں کتنے فلسفے پیدا ہوئے اور مر گئے کتنے نظام بنے اور بگڑ گئے مگر قرآن کے نظریہ کی صداقت اور اس کے عملی نظام کی افادیت آج بھی مسلم ہے۔ وہ ہوا اور پانی کی طرف زمانہ کی قید سے آزاد ہے۔ میں یہاں دونوں پہلوؤں سے ایک ایک مثال پیش کروں گا۔ قرآن نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کائنات کا محرک ایک ذہن ہے جو بالا ارادہ اسے حرکت دے رہا ہے۔ قرآن نے یہ دعویٰ یورپ کی نشاۃ ثانیہ سے بہت پہلے کیا تھا۔ اس کے بعد بہت سے فلسفی اور سائنس داں اٹھے جنھوں نے بڑے زور شور کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ کائنات محض ایک مادی مشین ہے جو خود بخود حرکت کر رہی ہے ۔ یہ نظریہ دو سو برس تک انسانی ذہنوں پر حکومت کرتا رہا۔ ایسا معلوم ہوا کہ علم کی ترقی نے قرآن کے دعویٰ کو رد کر دیا ہے۔ مگر اس کے بعد خود کائنات کے مطالعہ سے سائنس دانوں پر یہ منکشف ہوا کہ زندگی اور کائنات کی توجیہ محض مادی قوانین کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی اب سائنس دن بہ دن قرآن کے اس نظریہ کی طرف لوٹ رہی ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ذہن ہے جو اپنے ارادہ سے اس کو چلا رہا ہے۔ مشہور سائنس داں سر جیمز جینز اس تبدیلی کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: علم کے دریا نے پچھلے چند برسوں میں نہایت تیزی سے ایک نیا موڑ اختیار کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader