Urdu book · حقیقت کی تلاش

قرآن اپنی دلیل آپ

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

تیس سال پہلے ہمارا خیال تھا یا ہم نے فرض کر لیا تھا کہ ہم ایک ایسی آخری حقیقت کی طرف بڑھ رہے ہیں جو اپنی نوعیت میں مشینی ہے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ کائنات ایٹموں کے ایک ایسے بے ترتیب انبار پر مشتمل ہے جو اتفاقی طور پر اکٹھا ہو گئے ہیں اور جن کا کام یہ ہے کہ بے مقصد اور اندھی طاقتوں کے عمل کے تحت جو کوئی شعور نہیں رکھتیں، کچھ زمانے کے لئے ایک بے معنی رقص کریں جس کے ختم ہونے پر محض ایک مردہ کائنات باقی رہ جائے۔ اس خالص مشینی دنیا میں، مذکورہ بالا اندھی طاقتوں کے عمل کے دوران میں، زندگی ایک حادثہ کے طور پر بالکل اتفاق سے آ پہنچی ہے۔ کائنات کا ایک بہت ہی چھوٹا گوشہ یا امکان کے طور پر اس طرح کے کئی گوشے کچھ عرصے کے لیے اتفاقی طور پر ذی شعور ہو گئے ہیں۔ مگر موجودہ معلومات کی روشنی میں طبیعیات کی حد تک سائنس کا اب اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ علم کا دریا ہمیں ایک غیر مشینی حقیقت (Non-Mechanical Reality) کی طرف لے جا رہا ہے۔ اسی مضمون میں آگے چل کر انہوں نے لکھا ہے: جدید معلومات ہم کو مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنے پچھلے خیالات پر نظر ثانی کریں جو ہم نے جلدی میں قائم کر لیے تھے۔ یعنی یہ کہ ہم اتفاق سے ایک ایسی کائنات میں آ پڑے ہیں جس کو خود زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے یا وہ باقاعدہ طور پر زندگی سے عداوت رکھتی ہے۔ اب ہم نے دریافت کر لیا ہے کہ کائنات ایک ایسی خالق یا مدبر طاقت (Designing or Controlling Power) کا ثبوت فراہم کر رہی ہے جو ہمارے شخصی ذہن سے بہت کچھ ملتی جلتی ہے۔ (ماڈرن سائنٹفک تھاٹ، صفحہ 104) یہ نظری پہلو کی مثال تھی، اب عملی پہلو سے متعلق ایک مثال لیجئے ۔ اسلام نے معاشرتی زندگی کا جو قانون بنایا ہے اس میں ایک مرد کو اجازت دی ہے کہ وہ چار عورتوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page