قرآن اپنی دلیل آپ
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
تک سے شادی کر سکتا ہے۔ اسلام کے بعد جب مغربی تہذیب اٹھی تو اس نے اس قانون کا بہت مذاق اڑایا اور اس کو جاہلیت کے زمانہ کا وحشی قانون قرار دیا۔ اس کے نزدیک یہ قانون عورتوں کے ساتھ سراسر نا انصافی تھی اور اس بنیاد پر کبھی بھی کوئی ترقی یافتہ تمدن تعمیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ مسیحیت میں اگرچہ اس کی گنجائش موجود تھی مگر مغربی تہذیب نے اس کو یک قلم اپنے یہاں سے خارج کر دیا اور اس کو ایک نہایت ذلیل فعل قرار دیا کہ کوئی شخص ایک عورت رکھتے ہوئے دوسری عورت سے شادی کرے۔ اس کی تبلیغ اس زور شور سے کی گئی کہ اب یہ حال ہے کہ نہ کوئی مرد اس کی جرات کر سکتا ہے اور نہ کوئی عورت اپنے بارے میں ایسا سوچ سکتی ہے کہ وہ کسی شخص کی دوسری یا تیسری بیوی بنے۔ مگر حالات نے، اور خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے حالات نے، اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت دراصل زندگی کی ایک عملی ضرورت ہے۔ کبھی بعض افراد کی زندگی میں اور کبھی پوری جماعت کے لیے ایسے غیر معمولی حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ دو میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب نا گزیر ہو جاتا ہے۔ یا تو فواحش اور بد کاری کو قبول کیا جائے جس کا مطلب پورے تمدن کو ہولناک خطرہ میں مبتلا کر دینا ہے یا تعدد ازواج کو اختیار کیا جائے جس سے مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے اور کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان تمام ملکوں میں جو جنگ میں شریک تھے، یہ صورت حال پیش آئی کہ عورتیں زندہ رہیں اور مرد کثرت سے ہلاک ہو گئے۔ چنانچہ مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی جس کا اثر ابھی تک باقی ہے۔ 1955ء کے اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں ہر ایک مرد کے مقابلہ میں آٹھ عورتیں تھیں۔ اس جنگ کا سب سے زیادہ اثر جرمنی پر پڑا جہاں بے شمار عورتیں بیوہ اور کتنے بچے یتیم ہو گئے اور لڑکیوں کے لیے شوہر ملنا مشکل ہو گیا۔ اس کی وجہ سے ان ملکوں میں لاوارث

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader