قرآن اپنی دلیل آپ
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
اور ناجائز بچوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ جو یتیم ہو گئے تھے ان کا کوئی وارث نہیں رہا اور جو عورتیں شوہر سے محروم ہو گئی تھیں انھوں نے فطری تقاضے سے مجبور ہو کر اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے ناجائز طریقے اختیار کرنے شروع کر دیے ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جرمنی میں بعض عورتوں کے گھروں پر اس قسم کا بورڈ نظر آنے لگا کہ: Wanted an Evening Guest یعنی، رات گزارنے کے لیے ایک مہمان چاہیے ۔ دوسری جنگ عظیم میں لڑنے والے ملکوں کے بیشمار مرد مارے گئے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عورتیں شادی شدہ زندگی سے مایوس ہو کر طوائف کی زندگی گزارنے لگیں ۔ جیمز کیمرون (James Cameron) دوسری جنگ عظیم میں جرمنی میں نامہ نگار تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنی یادداشت شائع کی ہے ۔ یہ برطانی نامہ نگار اس میں لکھتا ہے کہ جنگ کے خاتمہ پر جب میں برلن گیا تو شکست خوردہ شہر بنیادی طور پر بھوکی طوائفوں (Hungry Whores) سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے اس کو اپنے ذہن سے نکالنا چاہا مگر میں نہ نکال سکا۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: It is not so much that I have no stomach for the fight, I had no stomach for the victory. ایسا تھا کہ جنگ کی برداشت کی طاقت مجھ میں نہ ہو۔ مگر فتح کو برداشت کرنے کی طاقت مجھ میں نہیں تھی ( گارجین ، 10 اکتوبر 1982ء)۔ اگر چہ مغربی ذہن نے ابھی تک اس معاملہ میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کی ہے مگر واقعات نے صریح طور پر اس کا غلط ہونا ثابت کر دیا ہے اور وہ دن دور نہیں جب زبان سے بھی اس کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس وقت معلوم ہو گا کہ نکاح کے معاملہ میں جس اصول کو مغرب نے اختیار کیا تھا اس کا مطلب یہ ہے کہ سماج کو فحاشی میں مبتلا کر کے بے شمار جرائم کا دروازہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader