حقیقت کی تلاش
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
کھول دیا جائے ۔ جب کہ اسلام کا اصول اصل مسئلہ کو بہترین طریقہ پر حل کرتا ہے اور سماج کو بہت شدید نقصانات سے بچا لیتا ہے ۔ قرآن کے نظریات اور اس کے قوانین کی ابدیت کی یہ دو مثالیں تھیں جن سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ انسانی ساخت کے نظریے اور قوانین بن بن کر بگڑتے رہے مگر قرآن نے پہلے دن جو کچھ کہا تھا آخر دن تک اس کی سچائی میں کوئی فرق نہیں آیا وہ پہلے جس طرح حق تھا آج بھی اسی طرح حق ہے ۔ قرآن کی یہ خصوصیت ظاہر کرتی ہے کہ وہ ایک ایسے ذہن سے نکلا ہے جس کا علم ماضی اور مستقبل پر محیط ہے ۔ قرآن کی ابدیت قرآن کے کلام الہی ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہے ۔ آخری بات ہمارے مطالعہ نے اب ہمارے لیے حقیقت کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ہم نے اپنے سفر کا آغاز اس سوال سے کیا تھا کہ ”ہم کیا ہیں اور یہ کائنات کیا ہے“ اس کا جواب بہت سے لوگوں نے اپنے ذہن سے دینے کی کوشش کی ہے، مگر ہم نے دیکھا کہ یہ جوابات حقیقت کی صحیح تشریح نہیں کرتے۔ پھر ہمارے کانوں میں عرب سے نکلی ہوئی ایک آواز آئی۔ ہم نے اس پر غور کیا، اس کو کائنات کے فریم میں رکھ کر دیکھا، انسانی تاریخ میں اسے آزمایا اور فطرت کی گہرائیوں میں اتر کر اس کو پہچانے کی کوشش کی۔ ہم نے دیکھا کہ کائنات، تاریخ اور انسانی نفسیات متفقہ طور پر اس کی تصدیق کر رہے ہیں، ہمارا تمام علم اور ہمارے بہترین احساسات بالکل اس کی تائید میں ہیں۔ جس حقیقت کی ہمیں تلاش تھی اس کو ہم نے پا لیا۔ اب ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader