حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
پیدا ہوتی ہیں ۔ مثلاً ایک دوسرے کو بدنام کرنا ، ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی کرنا ، ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھ لینا ۔ اس قسم کی اجتماعی خرابیوں کا سبب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ لوگ تحقیق کے بغیر رائے قائم کر لیتے ہیں ، وہ جو کچھ سنتے ہیں ، اس کو درست سمجھ لیتے ہیں ۔ اس طریقے کا نتیجہ بے حد سنگین ہے ۔ دنیا میں ندامت اور آخرت میں مواخذہ ۔ اختلافِ رائے ایک بار میری ملاقات ایک مغربی اسکالر سے ہوئی ۔ میں نے پوچھا کہ اہل مغرب کی ترقی کا راز کیا ہے ۔ انھوں نے جواب دیا : اختلاف رائے (dissent) کو انسان کا مقدس حق قرار دینا ۔ یہ بلاشبہ ایک درست بات ہے ۔ لیکن وہ مغربی فکر کی بات نہیں ، وہ فطرت کا ایک قانون ہے ۔ اس قانون کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اختلافِ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (كنز العمال ، حدیث نمبر 28686 ) ۔ یعنی میری امت کا اختلاف رحمت ہے ۔ اختلافِ رائے کا اظہار ہمیشہ تنقید (criticism) کی صورت میں ہوتا ہے ۔ مگر تنقید خواہ وہ کسی شخص کے حوالے سے کی گئی ہو ، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے مطالعے کی ایک صورت ہوتی ہے ۔ تنقید کا اصل مقصد کسی موضوع پر کھلے تبادلۂ خیال (open discussion) کا آغاز کرنا ہوتا ہے ۔ تنقید کا مقصد یہ ہے کہ مختلف ذہن (mind) دیانت دارانہ طور پر (honestly) اپنے نتیجہ تحقیق کو بتائیں ، اور پھر دوسرے لوگ دیانت داری کے ساتھ اُس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔ اس طرح کا آزادانہ تبادلۂ خیال ذہنی ارتقا (intellectual development) کا لازمی تقاضا ہے ۔ علم اپنی نوعیت کے اعتبار ایک لامحدود موضوع ہے ۔ یہ بات مذہبی موضوع پر بھی اُسی طرح صادق آتی ہے ، جس طرح سیکولر موضوع پر ۔ اختلافِ رائے بلاشبہ ایک رحمت ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader