حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
تکرار ہوگئی۔ اس بات کو لے کر ایک شخص نے سعد بن ابی وقاص سے خالد بن الولید کی برائی بیان کی۔ لیکن سعد ایک اعلیٰ اخلاق والے آدمی تھے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ ہمارے اور خالد کے درمیان جو اختلاف ہے، وہ ایک ذاتی نوعیت کا اختلاف ہے۔ اس اختلاف کو ہم ذاتی حد تک رکھیں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس کی بنا پر ہم ایک دوسرے کو دین کے اعتبار سے برا سمجھنے لگیں۔ اجتماعی زندگی میں باہمی نزاع کا پیدا ہونا، ایک عام بات ہے، لیکن اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ ذاتی معاملے کو دین سے الگ رکھیں۔ ذاتی شکایت کو وہ ایک دوسرے کے دین تک نہ لے جائیں۔ ذاتی اختلاف کے باوجود وہ دینی اعتبار سے ایک دوسرے کے اعتراف میں کمی نہ آنے دیں۔ اختلاف کو مسئلہ نہ بنانا دو اصحاب رسول کے درمیان اختلاف کا ایک واقعہ مختلف کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: سَمِعْتُ طَارِقاً يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: كَانَ بَيْنَ خَالِدٍ وَسَعْدٍ كَلَامٌ، فَذَهَبَ رَجُلٌ يَقَعُ فِي خَالِدٍ عِنْدَ سَعْدٍ، فَقَالَ: مَهْ إِنَّ مَا بَيْنَنَا لَمْ يَبْلُغْ دِينَنَا (حليۃ الاولياء، جلد 1، صفحہ 94)۔ یعنی طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ خالد بن الولید اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان کسی مسئلے پر کچھ تکرار ہو گئی۔ اس کے بعد ایک آدمی نے سعد کے پاس خالد کی برائی کی۔ تو سعد نے کہا: ٹھہرو، جو ہمارے درمیان ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے گا۔ اختلاف ایک امر فطری ہے۔ لیکن اختلاف کو اسی مسئلے تک محدود رکھنا چاہیے، جو واقعتاً دونوں فریق کے درمیان ہے۔ نزاعی مسئلہ میں دوسرے غیر نزاعی معاملے کو شامل کرنا، ایک ایسی بات ہے، جو غیر اخلاقی ہے، اور غیر شرعی بھی۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان اگر کوئی نزاع پیدا ہو، تو یا تو اس کو نظر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader