Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

انداز کر دیا جائے، اور مسئلے کو مسئلہ بننے سے پہلے ختم کر دیا جائے۔ اور اگر ایسا نہ ہو، تو نزاع کو متعلق مسئلے کی حد تک محدود رکھا جائے۔ کسی حال میں اس کو باہر نہ لے جایا جائے۔ کوئی نزاع اس وقت بڑھتا ہے، جب کہ اس کو نزاع کی حد سے باہر تک وسیع کیا جائے۔ اگر نزاع کو سختی کے ساتھ اصل نزاعی مسئلے تک محدود رکھا جائے، اور گفتگو کو اخلاقی حدود کا پابند رکھا جائے، تو نزاع غیر مطلوب حد تک وسیع نہ ہوگی۔ مثلاً مسئلہ لین دین کا ہو، اور اس کو لے کر یہ کہا جائے کہ تمھارا تو پورا خاندان لین دین میں ناقابل اعتبار ہے۔ منافق کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ مسئلے کو مسئلے کی حد تک نہیں رکھتا، بلکہ مسئلے کو غیر متعلق باتوں تک لے جاتا ہے (إِذَا خَاصَمَ فَجَرَ) صحیح البخاری، حدیث نمبر 34۔ اس بنا پر مسئلہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ نئے نئے نزاعات پیدا ہوتے ہیں۔ مسئلہ پھیل کر غیر متعلق بحثوں تک پہنچ جاتا ہے۔ وسیع تر مفاد جس زمانے میں حضرت علی اور حضرت معاویہ کے درمیان جنگ ہورہی تھی، قیصر روم (قسطنطنیہ) نے ارادہ کیا کہ وہ مسلم دنیا پر حملہ کر دے۔ اس کے ذہن میں آیا کہ اس وقت مسلمان باہمی لڑائی میں مبتلا ہیں۔ اگر اس وقت میں نے حملہ کر دیا تو میں شام ومصر وغیرہ علاقہ پر دوبارہ قبضہ کر سکتا ہوں ۔ حضرت معاویہ کو اس کی خبر ملی تو انھوں نے فوراً قیصر روم کے نام ایک خط روانہ کیا، اس میں لکھا ہوا تھا: وَاللَّهِ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ وَتَرْجِعَ إِلَى بِلَادِكَ، لَأُصْطَلِحَنَّ أَنَا وَابْنُ عَمِّي عَلَيْكَ وَلَأُخْرِجَنَّكَ مِنْ جَمِيعِ بِلَادِكَ، وَلَأُضَيِّقَنَّ عَلَيْكَ الْأَرْضَ بِمَا رَحُبَتْ (البدایة والنھایة، جلد 8 ، صفحہ 127) ۔ یعنی، اللہ کی قسم، اگر تم باز نہ آئے اور اپنے ملک کی طرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page