حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
واپس نہ ہوئے تو میں اپنے چچازاد بھائی کے ساتھ تیرے خلاف صلح کرلوں گا پھر تیرے پورے ملک پر قبضہ کرکے زمین کی وسعت کے باوجود اس کو تیرے اوپر تنگ کردوں گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت معاویہ کے اس خط کے بعد قیصر روم نے اپنا حوصلہ کھودیا۔ اس نے فوجوں کی تیاری روک دی۔ اس نے سمجھ لیا کہ اب مسلمانوں سے جنگ چھیڑنا اپنی مزید بربادی کو دعوت دینا ہے۔ یہ زندہ لوگوں کا طریقہ ہے۔ ان کے اندر آپس میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر جب معاملہ وسیع تر مفاد کا آجائے تو وہ اپنے اختلاف کو ختم کرکے ایک ہوجاتے ہیں۔ ان کے اختلاف کی ایک حد ہوتی ہے۔ حد کے آجانے کے بعد ان کا اختلاف باقی نہیں رہتا۔ زندہ انسان دوستی کے باوجود کسی کی بے جا حمایت نہیں کرتا۔ وہ دشمنی کے باوجود کوئی چھوٹی حرکت نہیں کرتا۔ وہ انفرادی جھگڑے کے باوجود اجتماعی امور میں متحد ہوجاتا ہے۔ وہ شخصی کدورت کے باوجود اسلامی تعلق میں فرق نہیں آنے دیتا۔ زندہ انسان کسی سے نزاع پیش آنے کے باوجود اس کی خصوصیات کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ رنجش پیدا ہونے کے باوجود امانتوں کو ادا کرتا ہے۔ زندہ انسان کسی حال میں پست حرکت نہیں کرتا، وہ کسی حال میں اپنی انسانیت کو نہیں کھوتا۔ زندہ انسان دشمن ہوسکتا ہے مگر وہ کمینہ نہیں ہوسکتا۔ زندہ انسان کو شکایت ہوسکتی ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ جس سے اس کو شکایت ہو اس کے خلاف وہ جھوٹا الزام لگانے لگے۔ تنقید کوسن کر خلیفہ ہارون الرشید (193-149ھ) نے ایک بار اپنے وزیر سے کہا کہ مجھ کو کسی بزرگ کے پاس لے چلو۔ وہ خلیفہ کو الفضیل بن عیاض (187-105ھ) کے پاس لے گیا۔ اس سلسلہ میں لمبا قصہ کتابوں میں نقل ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader