تنقید کو سن کر
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
خلیفہ کے ساتھ اس کے کئی درباری تھے۔ انھوں نے فضیل سے مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے بھی مصافحہ کیا۔ خلیفہ نے اپنا ہاتھ جب فضیل کے ہاتھ میں رکھا تو انھوں نے کہا کہ کتنا زیادہ نرم ہے یہ ہاتھ، اگر کل کے دن وہ اللہ کے عذاب سے بھی بچ جائے (يَا لَهَا مِنْ كَفٍّ مَا أَلْيَنَهَا، إِنْ نَجَوْتَ غَدًا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ)۔ اس کے بعد خلیفہ سے کہا کہ کچھ نصیحت کیجیے۔ انھوں نے تلخ نصیحت کے انداز میں کچھ کلمات کہے۔ خلیفہ نے کہا کہ اور کچھ فرمائیے۔ فضیل نے مزید کچھ کہا۔ اس طرح وہ سخت تنقیدی انداز میں دیر تک خلیفہ کو ڈرانے والی باتیں کرتے رہے۔ خلیفہ ان کی نصیحتوں کو سن کر رو پڑا۔ آخر میں اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ جب تم مجھ کو کسی آدمی کے پاس لے جاؤ تو اسی طرح کے آدمی کے پاس لے چلو۔ یہ مسلمانوں کے سردار ہیں: (إِذَا دَلَلْتَنِي عَلَى رَجُلٍ فَدُلَّنِي عَلَى مِثْلِ هَذَا، هَذَا سَيِّدُ الْمُسْلِمِينَ) (حلية الاولیاء للاصبهانی ، جلد 8، صفحہ 107-106)۔ آدمی کے اندر اگر صحیح مزاج ہو تو وہ نصیحت کو سن کر اس سے سبق لے گا، خواہ یہ نصیحت کتنے ہی سخت تنقیدی الفاظ میں کی گئی ہو۔ ایسا آدمی نصیحت کو اس کے معنوی اعتبار سے دیکھے گا، نہ کہ اس کے لفظی اعتبار سے۔ وہ اس کو اصولی حیثیت سے لے گا، نہ کہ ذاتی حیثیت سے۔ صحیح مزاج اگر بادشاہ کے اندر ہو تو وہ بھی تنقید کو سن کر اسے برداشت کرے گا۔ اور ایک معمولی آدمی بھی اگر صحیح مزاج نہ رکھتا ہو تو وہ تنقید کو سن کر بگڑ جائے گا۔ تنقید کسی آدمی کو پہچانسے کی سب سے زیادہ یقینی کسوٹی ہے۔ تنقید کو سن کر جو آدمی اپنے ذہنی توازن کو نہ کھوئے وہی اعلیٰ انسان ہے۔ اور جو شخص تنقید کو سن کر بگڑ جائے ، اس کے متعلق یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ انسان والی خصوصیات رکھتا ہے۔ تنقید کسی آدمی کی انسانیت اور اس کے تقوی کی پہچان کراتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader