Urdu book · حکمتِ اختلاف

ذہنی ارتقا کا ذریعہ

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہنی ارتقا کا ذریعہ علمائے سلف کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے درمیان دینی مسائل میں کثرت سے اختلاف پایا جاتا تھا۔ اِس کے باوجود ہر عالم دوسرے عالم کا احترام کرتا تھا۔ اِس سلسلے میں یہاں دو واقعات نقل کیے جاتے ہیں: امام احمد بن حنبل اور علی بن المدینی کے درمیان ایک مسئلے پر بحث ہوئی اور بحث ایسی ہوئی کہ دونوں طرف سے آوازیں بلند ہونے لگیں۔ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ آپس میں بد مزگی پیدا ہو جائے گی (وَإِذْ تَفْرَعْتَ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى خِفْتُ أَنْ يَقَعَ بَيْنَهُمَا جَفَاء) لیکن علی بن المدینی واپس جانے لگے تو امام احمد بن حنبل نے ان کے ساتھ اِس درجہ احترام کا معاملہ کیا کہ آگے بڑھ کر ان کی رکاب تھام لی (جامع بیان العلم لابن عبد البر، جلد 2، صفحہ (107)۔ اِسی طرح یونس صدقی امام شافعی کے ایک ممتاز شاگرد ہیں۔ ایک مرتبہ کسی مسئلے میں استاذ سے خوب بحث ہوئی۔ پھر جب اگلی ملاقات ہوئی تو امام شافعی نے ان کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ کیا یہ بات بہتر نہ ہوگی کہ ہم بھائی بھائی بن کر رہیں، خواہ کسی مسئلے میں بھی ہمارے درمیان اتفاق پیدا نہ ہو سکے: أَلَا يَسْتَقِيمُ أَنْ نَكُونَ إِخْوَانًا وَإِنْ لَمْ نَتَّفِقْ فِي مَسْأَلَةٍ (سیر اعلام النبلاء، جلد 10، صفحہ 16)۔ اِس طرح کے واقعات کا مطلب صرف باہمی احترام (mutual respect) نہیں ہے، بلکہ اِن واقعات میں ایک اور زیادہ بڑا پہلو ہے اور وہ ہے اختلاف رائے (difference of opinion) کا احترام۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ اختلاف رائے کو علمی پہلو سے دیکھنا، نہ کہ شخصی پہلو سے۔ اختلاف رائے کا احترام کوئی سادہ بات نہیں، اس کا براہِ راست تعلق ذہنی ارتقا سے ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page