Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

جس ماحول میں اختلافِ رائے کو برا نہ سمجھا جائے، وہاں لازماً ڈسکشن کا ماحول ہوگا۔ لوگ علمی دلائل کے ذریعے اپنا اپنا نقطہ نظر بیان کریں گے۔ جہاں اختلافِ رائے کو برا سمجھنے کے بجاے اختلافِ رائے کا احترام پایا جاتا ہو، وہاں ذہنی جمود نہ ہوگا، بلکہ ایسے ماحول میں ذہنی ارتقا کا عمل جاری رہے گا اور ذہنی ارتقابلا شبہ کسی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اختلاف، نفرت مولانا محمود حسن دیو بندی (1920-1851) تحریک خلافت کے پرجوش حامیوں میں سے تھے۔ ان کے شاگرد مولانا اشرف علی تھانوی (1943-1862) تحریک خلافت کے مخالف تھے۔ وہ اس تحریک پر کھلّم کھلا تنقید کرتے تھے۔ مگر استاد نے اپنے شاگرد کی اس ”گستاخی“ کو کبھی برا نہیں مانا۔ دونوں کے درمیان آخر وقت تک مخلصانہ تعلق باقی رہا۔ مولانا اشرف علی تھانوی ایک گفتگو کے ذیل میں اپنے استاد اور شیخ کے بارے میں لکھتے ہیں: ”حضرت کے قلب پر میرے اختلاف سے ذرہ برابر بھی گرانی نہ تھی۔ ایک مرتبہ تحریک خلافت کے زمانہ میں حضرت کی بیٹھک میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے میرے متعلق برے بھلے الفاظ کہہ رہے تھے۔ کچھ الفاظ حضرت کے کانوں میں پڑ گئے۔ باہر تشریف لے آئے۔ بہت خفا ہوئے اور یہ فرمایا کہ خبردار، جو آئندہ ایسے الفاظ کبھی استعمال کیے۔ اور یہ فرمایا کہ میرے پاس کیا وحی آتی ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں وہ سب ٹھیک ہے۔ میری بھی ایک رائے ہے۔ اس کی بھی ایک رائے ہے۔ ایک مرتبہ حضرت نے یہ فرمایا کہ ہمیں تو اس پر فخر ہے کہ جو شخص تمام ہندوستان سے بھی متاثر نہ ہوا اور کسی کی بھی پروانہ کی وہ بھی ہماری ہی جماعت سے ہے۔“ (ملفوظات حکیم الامت، مولانا اشرف علی تھانوی، ادارہ تالیفات اشرفیہ، ملتان، صفحہ 114)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page