Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف کے معاملہ میں علمائے امت کا طریقہ کیا ہونا چاہیے ۔ اس طرح کے اختلافات میں وہی روح کارفرما ہونی چاہیے جو امام شافعی کی طرف منسوب اس قول میں بیان کیا گیا ہے: میری رائے درست ہے، مگر احتمال خطا کے ساتھ۔ دوسرے کی رائے غلط ہے مگر احتمال صحت کے ساتھ۔ رَأْيِي صَوَابٌ يَحْتَمِلُ الْخَطَأَ، وَرَأْيِي غَيْرِي خَطَأٌ يَحْتَمِلُ الصَّوَابَ۔ یہ اختلافات عام طور پر اجتہادی امور میں ہوتے ہیں اور اجتہادی امور میں ہمیشہ ایک سے زیادہ رائے کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس لیے صحیح ترین مسلک یہ ہے کہ آدمی اختلاف کے باجود اپنے آپ کو فریق ثانی کی نفرت سے بچائے۔ وہ اپنے نقطہ نظر کو شدت کے ساتھ پیش کرے، اس کے باوجود اس کی نفسیات یہ ہو کہ یہ معاملہ 50-50 فیصد کا ہے، نہ کہ صدفی صد کا۔ اختلاف کے ساتھ اعتراف مولانا حسین احمد مدنی (1957-1879) سیاسی مسلک کے اعتبار سے انڈین نیشنل کانگریس کے حامی تھے۔ مولانا اشرف علی تھانوی (1943-1863) کا مسلک اس معاملہ میں مختلف تھا۔ وہ کانگریس کی حمایت کو مسلمانوں کے لیے درست نہیں سمجھتے تھے۔ اس اختلاف کے باوجود دونوں بزرگوں میں نہایت اچھے تعلقات تھے۔ دونوں ایک دوسرے کی قدر کرتے تھے۔ ایک شخص کا ذہنی سانچہ اگر یہ ہو کہ موقف صرف دو ہوا کرتے ہیں۔ یا کامل موافقت یا کامل مخالفت، تو وہ دونوں بزرگوں کے اس طریقہ کو زمانہ شناسی پر محمول کرے گا۔ وہ کہے گا کہ دونوں صاحبان اگرچہ ایک دوسرے کے مخالف تھے، مگر ذاتی مفاد کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھے الفاظ بولتے رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page