حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف رائے ہر حال میں مفید ہے ۔ اس معاملے میں اگر کوئی شرط ہے تو وہ صرف ایک ہے ، وہ یہ کہ اختلاف کرنے والا مسلم دلیل کی بنیاد پر اختلاف کرے ، وہ الزام تراشی کا طریقہ اختیار نہ کرے ۔ اختلاف رائے کے فائدے بے شمار ہیں ۔ اس سے زیر بحث مسئلہ کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں ۔ اس سے تخلیقی فکر (creative thinking) میں اضافہ ہوتا ہے ۔ اس کے ذریعے لوگوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ دوسرے کے نتیجہ فکر سے فائدہ اٹھائیں ۔ اس سے زیر بحث مسئلہ کے ایسے گوشے سامنے آتے ہیں جو پہلے سے ظاہر نہیں ہوتے ، وغیرہ ۔ تنقید کا عمل کبیر پندرہویں صدی کا ایک صوفی شاعر اور سنت تھا۔ اس نے اپنے کلام کے ذریعے لوگوں کو حکمت و نصیحت کا پیغام دیا ہے۔ اس کا ایک حکیمانہ دوہا ان الفاظ میں آیا ہے: نندک نیربے رکھیے آنگن کٹی چھوائے بن صابن، پانی بنا، نرمل کرتا سجھائے جو ہماری نندا کرتا ہے، اس کو سب سے قریب رکھنا چاہیے وہ تو بغیر صابن اور بغیر پانی ہماری کمیوں کو بتا کر ہمارے سجھاؤ کو درست کرتا ہے۔ نندا کرنا، یعنی تنقید کرنا۔ تنقید ایک مسلسل احتساب کا عمل ہے۔ تنقید زندہ معاشرے کی علامت ہے۔ جس سماج میں تنقید اور اختلاف کو سننے کا مزاج ہو وہ معاشرہ ذہنی اور فکری ترقی کرتا رہتا ہے۔ ایک بار میں نے ایک مغربی اسکالر سے پوچھا کہ اہل مغرب کی ترقی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا اختلاف رائے (dissent) کو انسان کا مقدس حق قرار دینا۔ اختلاف رائے کا اظہار ہمیشہ تنقید (criticism) کی صورت میں ہوتا ہے۔ تنقید کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader