Urdu book · حکمتِ اختلاف

عربوں کا مزاج

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

عربوں کا مزاج 1984 کے مدینہ کے سفر میں ایک عرب عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام متحدی پڑھی، الدین فی مواجہۃ العلم پڑھی، اور الاسلام والعصر الحدیث پڑھی یہ سب کتابیں مجھے پسند آئیں ۔ ان کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالی نے آپ پر رحمت کا دروازہ کھولا ہے۔ مگر اس کے بعد میں نے آپ کی کتاب ”حکمتہ الدین “ پڑھی تو وہ پسند نہیں آئی۔ اس میں آپ نے الاخوان المسلمین کی سیاست پر تنقید کی ہے۔ یہ زمانہ ایسا ہے کہ دشمنان اسلام ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ہم کو صرف وہی باتیں کرنی چاہئیں جس سے اتفاق پیدا ہو۔ اس قسم کی باتیں اور بھی کئی بار سننے کو ملی ہیں۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسا عجیب مطالبہ ہے ۔ جن جماعتوں پر میں نے تنقید کی ہے، وہ موجودہ زمانہ میں باہمی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ انہوں نے مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو حکمراں اور غیر حکمراں کے دو طبقوں میں بانٹ رکھا ہے اور دونوں کے درمیان زبردست ٹکراؤ جاری کر دیا ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ صرف علمی تنقید کرتا ہوں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف سے گزر کر مسلمانوں کو باہمی تصادم میں ڈال دیا ہے۔ پھر بھی اختلاف پیدا کرنے کا الزام میرے اوپر ہے۔ تاہم عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اختلاف کے با وجود کسی آدمی سے محبت کر سکتے ہیں ۔ عرب نوجوانوں کی بڑی تعداد اخوانی تحریک سے متاثر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں اخوانی تحریک کا ناقد ہوں۔ اس کے باوجود الاسلام متحدی کی بنیاد پر وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ محمد ضیاء الدین ملائجی ( حلب، شام ) اخوانی نوجوان ہیں اور اخوانیوں کے بارے میں میرے خیالات کو جانتے ہیں۔ مگر وہ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ مجھ سے ملتے رہے۔ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page