حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری بار آئے تو بتایا کہ میں نے شام میں اپنے والد سے ٹیلیفون پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میں خود نہیں آسکتا۔ تم شیخ وحید الدین کو میرا سلام کہو اور میری طرف سے ان کے ہاتھ کا بوسہ دو (قَبَّلَ يَدَهُ بِالنِّيَابَةِ عَنِّي) ۔ اس سفر (1984) میں ایک ہندوستانی طالب علم سے میں نے عربوں کے بارے میں ان کے تجربات پوچھے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عربوں میں ایک خاص بات یہ دیکھی کہ ان کے اندر توسع کا مزاج ہوتا ہے جو ہندوستان اور پاکستان جیسے علاقوں میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ ہم لوگ کسی محفل میں ایک تقریر کرتے ہیں یا کسی موقع پر ایک سوال کا معمولی جواب دیتے ہیں تو ہمارے اساتذہ فراخ دلی کے ساتھ احسنت احسنت کہتے ہیں۔ ان کا مزاج ہوتا ہے کہ جو خوبی ہے اس کا بھر پور اعتراف کیا جائے اور جو کمی ہے اس کو نظر انداز کیا جائے۔ انگلینڈ ، آئرلینڈ 1992 کے سفر میں میرا قیام وگن (Wigan) میں ایک تعلیم یافتہ عرب نوجوان طارق حسین الکردی کے مکان پر تھا۔ انھوں نے آئرلینڈ کی شہریت لی ہے مگر آج کل وہ انگلینڈ میں رہ رہے ہیں۔ آئرلینڈ میں زیادہ تر پروٹسٹنٹ ہیں اور انگلینڈ میں زیادہ تر کیتھولک ، دونوں میں سخت نفرت ہے۔ میں نے طارق حسین الکردی سے پوچھا کہ آپ کی شہریت آئرش ہے، پھر آپ انگلینڈ میں کس طرح رہتے ہیں اور یہاں کے قانون کے مطابق آپ کو یہاں کی تمام سہولتیں بھی حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ دونوں کے درمیان نفرت پائی جاتی ہے۔ مگر دونوں ملکوں کے درمیان ایگریمنٹ ہے کہ ایک جگہ کے شہری کو دوسری جگہ وہی سہولتیں حاصل رہیں جو اس کو اپنے ملک میں حاصل ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader