Urdu book · حکمتِ اختلاف

اختلاف کے باوجود قدردانی

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ لڑائی کس بات پر ہوتی تھی۔ معمولی معمولی باتوں پر۔ مثلاً حاجی دراب خان نے اپنا ایک درخت کٹوا یا اور اس کی لکڑی مسجد کے صحن میں رکھوادی۔ اس کی وجہ سے مسجد کا صحن تنگ ہو گیا۔ مولانا عبد الرحیم صاحب نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس لکڑی کو یہاں سے ہٹاؤ۔ مگر حاجی دراب خاں نے نہیں ہٹوایا۔ آخر مولانا عبد الرحیم صاحب نے ایک روز اپنے مدرسہ کے لڑکوں کے ذریعہ تمام لکڑی کو وہاں سے نکلوا کر باہر رکھوا دیا۔ اس پر حاجی دراب خان کافی غصہ ہوئے، وغیرہ۔ یہ مسجد حاجی دراب خاں کے خاندان نے بنوائی تھی۔ مدرسہ بھی ان ہی لوگوں نے قائم کیا تھا۔ مولانا عبد الرحیم صاحب وہاں گویا ان کے ایک ” ملازم “ تھے ۔ ایسی حالت میں ان کی یہ جسارت بالکل ناقابل برداشت تھی۔ اس قسم کی اور بہت سی باتیں تھیں جن کی وجہ سے حاجی دراب کی ” اس مولوی سے لڑائی رہتی تھی “، مگر مولانا عبد الرحیم نے بتایا کہ اس کے باوجود کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حاجی دراب ان کے بارے میں مخالفانہ رول ادا کریں۔ مولانا عبد الرحیم ایک با اصول آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ صاف گو ہیں۔ چنانچہ گاؤں کے لوگوں سے کسی نہ کسی بات پر ان کی تکرار ہو جاتی تھی۔ مثلاً وہ یہاں مسجد کے امام بھی تھے ۔ مقررہ وقت پر وہ ٹھیک گھڑی کے لحاظ سے جماعت شروع کر دیتے تھے، خواہ کوئی آیا ہو یا نہ آیا ہو۔ بعض لوگوں کو یہ بات بہت نا گوار ہوتی تھی۔ اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ کئی لوگ ان کے خلاف ہو گئے ۔ حتیٰ کہ انھوں نے گاؤں کی اکثریت کو اپنے موافق بنالیا اور عام رائے یہ ہو گئی کہ ان کو مدرسہ سے نکال دیا جائے اور ان کی جگہ دوسرے آدمی کو لایا جائے۔ مگر حاجی دراب اس تحریک کے سخت مخالف ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ اگر چہ اس مولوی سے میری ذاتی لڑائی ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مدرسہ کے کام کے لیے وہ نہایت موزوں ہے، اس کو ہٹانے کے بعد ایسا لائق معلم ہم کو نہیں مل سکتا، اس لیے انھوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page