Urdu book · حکمتِ اختلاف

اختلاف کے باوجود قدردانی

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

نے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے مولوی عبد الرحیم صاحب کی بھر پور حمایت کی۔ ذاتی شکایت کے باوجود اعتراف اور قدر دانی کی یہ صفت اتنی کم یاب ہے کہ کم از کم میں نے اپنے تجربہ میں اب تک کوئی دوسرا حاجی دراب نہیں دیکھا۔ تم قیمتی آدمی ہو 1988ء کے سفر امریکہ کا واقعہ ہے۔ صغیر احمد اسلم صاحب نے بتایا کہ 1969ء میں وہ لاس اینجلس کی ایک بڑی فرم میں 35 اسٹور کے مینیجر تھے۔ ان کو اپنے امریکی افسر کے ساتھ سفر کرنا پڑتا تھا۔ یہ جنرل مینیجر تقریباً 35 سال کا تھا۔ اور ہوٹل کے زمانہ قیام میں شراب اور عیاشی کے کاموں میں مشغول رہتا تھا۔ صغیر اسلم صاحب ایک با اصول آدمی تھے۔ ان کو اس قسم کی باتیں پسند نہ تھیں۔ آخر ایک سفر میں وہ جنرل مینیجر کے کمرہ میں گئے اور دروازہ بند کر کے اس سے نہایت سخت گفتگو کی۔ تم عیاش ہو، تم بالکل نکمے ہو، تم بزنس کرنا نہیں جانتے، وغیرہ۔ صغیر اسلم صاحب جنرل مینیجر کو بری طرح ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے بعد جب باہر جانے لگے تو جنرل مینیجر نے ان کو پکڑ کر واپس بلایا اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ ہاں، تم اس کمپنی کے مالک ہو۔ اس نے کہا کہ پھر تمہارے اندر یہ جرأت (courage) کہاں سے آئی کہ تم مجھ کو اس طرح خطاب کرو۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ تم یہی تو کر سکتے ہو کہ مجھ کو فائر (برخواست) کر دو، تو میں اس سے پہلے کمپنی سے اپنا استعفا تیار کر چکا ہوں۔ اس نے کہا کہ فائر کرنا تو درکنار، میں تم کو چھوڑوں گا بھی نہیں، تم ہماری کمپنی کے لیے بہت قیمتی ہو۔ اس شخص کا نام جب اسٹوارت میگرودر (Jeb Stuart Magruder) تھا۔ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page