حکمتِ اختلاف
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل مقصد کسی موضوع پر کھلے تبادلۂ خیال (open discussion) کا آغاز کرنا ہوتا ہے۔ تنقید کا مقصد یہ ہے کہ مختلف ذہن (mind) دیانت دارانہ طور پر (honestly) اپنے نتیجہ تحقیق کو بتائیں اور پھر دوسرے لوگ دیانت داری کے ساتھ اُس پر اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ اِس طرح کا آزادانہ تبادلۂ خیال ذہنی ارتقا (intellectual development) کا لازمی تقاضا ہے۔ اس حقیقت کو صحابی رسول ابو ہریرہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ایک مومن اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے۔ اگر وہ اس میں کوئی عیب دیکھے تو وہ اس کی اصلاح کرے ۔ اَلْمُؤْمِنُ مِرَاةُ أَخِيْهِ، إِذَا رَأَى فِيْهَا عَيْبًا أَصْلَحَهُ (الادب المفرد للبخاري، حدیث نمبر 238)۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کا گروہ ایک دوسرے کو خیر خواہی کے ساتھ برائیوں سے روک کے اور اچھائی کی نصیحت کرتا رہے ۔ اس کی وجہ سے ہر مومن کے لیے یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمیوں کو پہچان کر درست راستے پر قائم رہ سکے۔ ترک تعلق نہیں ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 13354)۔ یعنی انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: آپس میں ایک دوسرے سے بغض نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ رکھو، ایک دوسرے کی برائی نہ کرو، اللہ کے بندو!

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader