Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

نے صغیر اسلم صاحب سے پوچھا کہ آپ نے اس کے ساتھ اتنی سخت گفتگو کی ، پھر بھی وہ آپ کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوا۔ اس کا سبب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ جانتا تھا کہ میں کمپنی کے لیے ایک مفید شخص ہوں۔ اپنے ذاتی جذبات پر اس نے کمپنی کے مفاد کو غالب رکھا۔ مذکورہ امریکی نے ذاتی رنجش کے باوجود صغیر اسلم صاحب کی قدردانی کی۔ یہ اعتراف اور یہ بلند حوصلگی جو امریکہ کے ایک شرابی میں پائی جاتی ہے، وہ آج ہماری بڑی بڑی دینی شخصیتوں میں بھی موجود نہیں۔ ذاتی رنجش کے بعد کسی کی صلاحیت کا اعتراف بلا شبہ اعلیٰ ترین اخلاقی قدر ہے، مگر ہمارے تمام اکابر اس اخلاقی قدر سے مکمل طور پر خالی ہیں۔ استاد، شاگرد ہندوستانی صحافی اور مصنف مسٹر پر بھاش جوشی (وفات 2009) اندور کے سفر (مئی 1993) میں میرے ساتھ تھے۔ دوران سفر انھوں نے کئی سبق آموز واقعات بیان کیے۔ ایک واقعہ یہ تھا کہ سمپور نانند جی (وفات 1969) اچاریہ نریندر دیو (وفات 1956) کے شاگرد تھے ۔ 1955ء میں سمپور نانند یوپی کے چیف منسٹر تھے۔ اس وقت سمپور نانند کا تعلق کانگریس سے تھا اور اچاریہ نریندر دیو کا پرجا سوشلسٹ پارٹی سے جو کانگریس کے خلاف اپوزیشن کا پارٹ ادا کر رہی تھی۔ لکھنؤ میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ اس کا پولیٹیکل رزولیوشن اگلے دن پیش ہونے والا تھا۔ اور اس کا ڈرافٹ اچاریہ نریندر دیو کو تیار کرنا تھا۔ عین اس وقت اچاریہ نریندر دیو بیمار پڑ گئے ۔ سمپوز نانند رات کے وقت اپنے گرو کو دیکھنے کے لیے آئے۔ اچاریہ نریندر دیو نے ان سے کہا کہ دیکھو ، کل مجھے اپنی پارٹی کے اجلاس میں پولیٹیکل رزولیوشن پیش کرنا ہے مگر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میں اس کو لکھ نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page