Urdu book · حکمتِ اختلاف

حکمتِ اختلاف

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

سکا۔ تم اس ریزولیوشن کا ڈرافٹ تیار کر دو۔ سمپورنانند نے تعجب کے ساتھ کہا کہ میں اور آپ کا پولیٹیکل ریزولیوشن۔ کیوں کہ یہ ریزولیوشن اسی کانگریس حکومت کے خلاف لکھنا تھا جس کے سمپورنانند چیف منسٹر تھے۔ اچاریہ نریندر دیو نے کہا کہ ہاں، تم ہی اسے لکھو۔ سمپورنانند نے کہا کہ جب آپ کہہ رہے ہیں تو بہر حال مجھے اس کو لکھنا ہوگا۔ سمپورنانند اپنی سرکاری رہائش گاہ میں واپس آئے اور رات بھر جاگ کر پر جا سوشلسٹ پارٹی کا پولیٹیکل ریزولیوشن تیار کیا۔ اگلی صبح کو انھوں نے یہ ڈرافٹ اچاریہ نریندر دیو کے پاس بھیج دیا۔ اگلی رات کو سمپورنانند دوبارہ اپنے استاد کی عیادت کے لیے گئے۔ بات چیت کے دوران انھوں نے اچاریہ نریندر دیو سے پوچھا کہ اس ریزولیوشن کا کیا ہوا۔ اچاریہ جی نے کہا کہ وہ پارٹی کے اجلاس میں پیش ہو کر پاس بھی ہو گیا۔ سمپورنانند نے کہا کہ آپ نے اسے دیکھ لیا تھا۔ اچاریہ نریندر دیو نے کہا کہ جس چیز کو تم نے لکھا ہو اس کو مجھے دیکھنے کی کیا ضرورت۔ میں نے تو اسے پڑھے بغیر ہی فوراً آگے بڑھا دیا تھا۔ یہ ریزولیوشن اگرچہ خود سمپورنانند سرکار کے خلاف تھا مگر اس کا ڈرافٹ اتنے اچھے انداز میں تیار کیا گیا تھا کہ پر جا سوشلسٹ پارٹی کے لوگوں کو شبہ تک نہیں ہوا کہ اس کو اچاریہ نریندر دیو کے سوا کسی اور نے لکھا ہوگا۔ اسکاٹی ازدی لمیٹ مسٹر پر بھاش جوشی نے اندور کے سفر (مئی 1993ء) میں ایک واقعہ 1976 ء کا بتایا۔ یہ ایمرجنسی کا زمانہ تھا۔ رام ناتھ گوئنکا کا اخبار انڈین ایکسپریس ہمیشہ ایمرجنسی کے خلاف لکھا کرتا تھا۔ چنانچہ کانگریس گورنمنٹ اس کی سخت مخالف ہوگئی۔ ان کا اکاؤنٹ منجمد کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page